خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفر یدی نے کہا ہے کہ وہ صوبے کے حقوق حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہیں اور کسی سے بھیک نہیں مانگیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر پاکستان میں کوئی پالیسی غلط ہوگی تو وہ اس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔
میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفر یدی نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں مارٹر گولے اور ڈرون حملوں کی وجہ سے ایک ہی گھر کے 21 افراد شہید ہو چکے ہیں، اور وہی لوگ اس درد کو سمجھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز 6 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، اور ان کے جنازے پر جانے کے دوران انہیں محسوس ہوا کہ کندھوں پر 80 ہزار شہدا کا بوجھ ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے نے دہشتگردی کے خلاف 80 ہزار جانوں کا نذرانہ دیا ہے، اور فوج و پولیس کے شہداء کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے، کیونکہ افغانستان سے آنے والی دہشتگردی کی وجہ سے یہاں مسلسل شہادتیں ہو رہی ہیں۔
صحافی کے سوال پر کہ پی ٹی آئی کی ہمدردیاں افغان باشندوں کے ساتھ کیوں ہیں، انہوں نے جواب دیا کہ ان کی ہمدردی صرف پاکستان کے ساتھ ہے۔ اگر پاکستان میں کوئی پالیسی بن رہی ہے تو تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ انہیں اس اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا، اور اگر نومبر میں این ایف سی کے حوالے سے کوئی میٹنگ ہوئی تو وہ اپنے صوبے کے حق کے لیے ضرور جائیں گے۔ سہیل آفر یدی نے دوبارہ زور دیا کہ وہ کسی سے بھیک نہیں مانگیں گے بلکہ اپنے صوبے کے حقوق ڈنکے کی چوٹ پر لیں گے۔
انہوں نے گورنر کی تبدیلی کی افواہوں پر کہا کہ عوامی مینڈیٹ سے آئے ہیں اور عوامی مینڈیٹ کے ساتھ رہیں گے۔ علاوہ ازیں بتایا کہ خیبرپختونخوا سے اب تک 8 لاکھ افغان باشندوں کو واپس بھیج دیا گیا ہے جبکہ باقی کا انخلا عزت اور وقار کے ساتھ جاری ہے۔
وزیراعلیٰ نے سابق پی ٹی آئی قائد عمران خان سے ملاقات میں رکاوٹوں کے حوالے سے کہا کہ دو سال سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ انہوں نے تمام قانونی راستے استعمال کیے، خطوط لکھے اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دی، لیکن پھر بھی ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔ اب پارٹی اجلاس کے ذریعے یہ طے کیا جائے گا کہ آئندہ کیا اقدامات کیے جائیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا: صوبے کا حق ڈنکے کی چوٹ پر لوں گا، کسی سے بھیک نہیں مانگوں گا








