بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پیپلز پارٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کی تجاویز مسترد کردیں، حکومت کے پاس کیا راستہ بچا ہے؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پارٹی کی مرکزی مجلسِ عاملہ نے 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق زیادہ تر تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی چاروں صوبوں کی مساوی نمائندگی کے اصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

پیپلز پارٹی کے اس فیصلے کے بعد آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی ملتوی کر دیا گیا ہے، جب کہ یہ ترمیم سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں بھی شامل نہیں کی گئی۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting


بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آئینی ترمیم کی پیش رفت میں چند روز کی تاخیر ہو سکتی ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

نجی خبررساں ادارے نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اگر پیپلز پارٹی آئینی ترمیم میں حکومت کی حمایت نہیں کرتی تو اس کی منظوری کے لیے حکومت کے پاس کیا آپشنز باقی ہیں۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت کو دونوں ایوانوں میں 2 تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، قومی اسمبلی میں 224 اور سینیٹ میں 64 اراکین کی حمایت ضروری ہے۔

اس وقت حکومت کو قومی اسمبلی میں 237 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

لیکن اگر پیپلز پارٹی کے 74 ارکان حمایت نہ کریں تو حکومت کو ترمیم منظور کرانے کے لیے اپوزیشن کے 61 ارکان کی حمایت درکار ہوگی، جو بظاہر ممکن نہیں لگتا۔

اپوزیشن جماعتوں میں جے یو آئی کے 10 اور آزاد اراکین کی تعداد 7 ہے، اگر حکومت جے یو آئی کی حمایت حاصل کر بھی لے تو بھی اسے مزید 51 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔

سینیٹ میں پیپلز پارٹی دوسری بڑی جماعت ہے جس کے ارکان کی تعداد 26 ہے، حکومت کو اس وقت سینیٹ میں 35 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جب کہ آئینی ترمیم کے لیے 64 ووٹ درکار ہیں۔

اس لیے پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر ترمیم کی منظوری ناممکن ہے۔

قومی اسمبلی میں حکمراں اتحاد کو مسلم لیگ (ن) کے 125، ایم کیو ایم کے 22، مسلم لیگ (ق) کے 5، استحکام پاکستان پارٹی کے 4، نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی اور مسلم لیگ ضیا کے ایک ایک، اور 4 آزاد ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

اس طرح حکومت کو مجموعی طور پر 163 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جب کہ 2 تہائی اکثریت کے لیے 224 ووٹ درکار ہیں۔

سینیٹ میں حکمراں اتحاد کو بھی 2 تہائی اکثریت حاصل نہیں، حکومت کو مسلم لیگ (ن) کے 20، بی اے پی کے 4، ایم کیو ایم کے 3، نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے ایک ایک، اور 3 آزاد سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے۔

یہ تعداد مجموعی طور پر 35 بنتی ہے۔

آئینی ترمیم کے لیے مزید 29 ووٹ درکار ہیں، جے یو آئی کے 7 اور پی ٹی آئی کے 14 سینیٹرز ہیں، لیکن پی ٹی آئی کی حمایت حاصل کرنا بظاہر ممکن نہیں۔

حتیٰ کہ اگر جے یو آئی بھی حمایت کر دے تو بھی آئینی ترمیم کی منظوری کے امکانات کم ہیں۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر 27ویں آئینی ترمیم کا منظور ہونا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس ملتوی کر دیا ہے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ منگل تک پیپلز پارٹی کو راضی کرنے کے بعد پہلے کابینہ سے آئینی ترمیم کی منظوری لی جائے گی، جس کے بعد اسے سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔