بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حکومت کا بجلی کی کھپت بڑھانے کے لیے 22.98 روپے فی یونٹ کا نیا پیکیج تجویز

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کی منظوری دینے والی ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

اس ضمن میں نیپرا 11 نومبر 2025 کو عوامی سماعت کرے گی، جس میں وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ تجویز پر غور کیا جائے گا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

یہ پیکیج بجلی کی طلب میں اضافے، نظام کے بہتر استعمال اور غیر فعال پیداواری صلاحیت سے پیدا ہونے والے مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting


وزارت توانائی کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست کے مطابق، گزشتہ 3 برسوں میں پاکستان کے صنعتی شعبے میں بجلی کی کھپت 14 فیصد جبکہ زرعی شعبے میں 47 فیصد تک کم ہوئی ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

اس کمی کی وجوہات میں معاشی سست روی، ساختی تبدیلیاں اور متبادل توانائی ذرائع کا بڑھتا استعمال شامل ہیں، جن میں نیٹ میٹرنگ کی استعداد 6,035 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

نئے پیکیج کے تحت ٹائم آف یوز اور نان ٹائم آف یوز دونوں کیٹیگریز کے صارفین کے لیے فی یونٹ ریٹ 22.98 روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔

یہ شرح ان صارفین پر لاگو ہوگی جو ایکس ڈبلیو ڈسکوز اور کے الیکٹرک سے منسلک ہیں، اور ان کی انکریمنٹل یعنی اضافی بجلی کی کھپت، یعنی دسمبر 2023 سے نومبر 2024 کے درمیان طے شدہ بنیادی سطح سے زیادہ استعمال، پر لاگو ہوگی۔

یہ اسکیم منظوری کے بعد 3 سال تک نافذ العمل رہے گی، یہ منصوبہ ’سبسڈی نیوٹرل‘ قرار دیا گیا ہے، یعنی اس سے وفاقی بجٹ پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔

تاہم اس میں مثبت فیول کوسٹ ایڈجسٹمنٹ شامل ہوں گے، جبکہ کوارٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، ڈیٹ سروس سرچارج اور منفی ایف سی اے لاگو نہیں ہوں گے۔

اگر کھپت 25 فیصد سے زائد بڑھی تو منصوبے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔

تمام کیپٹیو پاور پلانٹس کو نئے صارفین کے طور پر شمار کیا جائے گا، جبکہ نیٹ میٹرنگ والے صارفین کو اسی صورت اہل سمجھا جائے گا جب ان کے بجلی درآمدی یونٹس میں متعلقہ ماہ کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا جائے۔

پاور ڈویژن کے مطابق، ماضی کے پروگرامز جیسے انڈسٹریل سپورٹ پیکیج 23-2020 اور بجلی سہولت پیکیج 25-2024 سے صنعتی بجلی کھپت میں 14 فیصد تک اضافہ ہوا تھا۔

نئے پیکیج کی مالی کارکردگی کا جائزہ ہر 6 ماہ بعد لیا جائے گا، اور اگر مسلسل 2 جائزوں میں ٹیرف میں اضافہ درکار ہوا تو یہ اسکیم خودبخود ختم ہو جائے گی۔

نیپرا نے اسٹیک ہولڈرز کو عوامی سماعت میں شرکت یا اپنی تجاویز آن لائن جمع کرانے کی دعوت دی ہے۔

حکومت کو توقع ہے کہ یہ پیکیج بجلی کے گرڈ آپریشن کو مستحکم کرے گا اور صنعتی و زرعی شعبوں کے لیے بجلی کی لاگت میں کمی کا باعث بنے گا۔