وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کی حالیہ رپورٹ میں درج نکات وہی ہیں جن کی نشاندہی حکومت اور اتحادی جماعتیں پہلے ہی کرتی رہی ہیں۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور اس کے بانی نے اقتدار میں رہنے کے لیے مختلف سازشیں کیں، جبکہ پارٹی نے بھارت اور اسرائیل سے بھی فنڈنگ وصول کی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے حامیوں کو چاہیے کہ وہ اس رپورٹ کو غور سے پڑھیں، کیونکہ یہ وہ حقائق ہیں جنہیں وہ لوگ مسلسل جھٹلاتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ 1992 کے بعد عمران خان کی واحد کوشش یہی تھی کہ کسی بھی طرح اقتدار حاصل کیا جائے، جبکہ عوام کی خدمت کا درس دینے والے خود کرپشن میں ملوث تھے۔ انہوں نے موجودہ وزیراعظم کے عالمی سطح پر ملنے والی عزت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا استقبال کسی جادو ٹونے کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔
حنیف عباسی نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں فیصلوں پر جادو ٹونے اور غیر معمولی اثرات کا الزام بھی درست ثابت ہوا ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی دور میں “جادوگرنی” کے زیر اثر اہم تقرریاں اور تبادلے کیے گئے، حتیٰ کہ عمران خان کے دفتر آنے اور جانے کا وقت بھی اسی کے حکم کے مطابق ہوتا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کابینہ کی تشکیل سے لے کر آئینی فیصلوں تک سب کچھ بشریٰ بی بی کے اشاروں پر ہوتا تھا، جبکہ بانی پی ٹی آئی نے اقتدار کے حصول کے لیے پرویز مشرف تک کے سامنے ہاتھ جوڑے۔
وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ اس دور میں خارجہ تعلقات کو شدید نقصان پہنچا، اور دوست ممالک کے ساتھ بنے ہوئے تعلقات بھی کمزور پڑ گئے۔
اکانومسٹ نے وہی لکھا جو ہم برسوں سے بتا رہے ہیں، حنیف عباسی کا ردِعمل








