بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پنجاب میں پالتو طوطوں کی رجسٹریشن لازمی قرار

پنجاب حکومت نے گھروں میں رکھے جانے والے پالتو طوطوں کی رجسٹریشن لازمی قرار دے دی ہے، جس کے بعد شہری بڑے پیمانے پر اپنے طوطوں کی رجسٹریشن کروا رہے ہیں۔ ہر طوطے کی سالانہ رجسٹریشن فیس ایک ہزار روپے رکھی گئی ہے۔
لاہور کی طالبہ زینب خان نے بتایا کہ رجسٹریشن سے انہیں اپنے طوطے “میان مٹھو” کے تحفظ کا اطمینان ملا ہے، جبکہ بزرگ خاتون نسیم اختر اپنے طوطوں کو خاندان کا حصہ تصور کرتی ہیں۔ نوجوان ارباز خان نے کہا کہ طوطوں کا شوق تو پرانا ہے، لیکن اب قواعد بدل گئے ہیں۔
پنجاب وائلڈلائف حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد گھروں میں موجود طوطوں کی تعداد معلوم کرنا اور جنگل سے غیر قانونی شکار میں کمی لانا ہے۔ ہر طوطے کو شناخت کے لیے رنگ دیا جائے گا، اور مستقبل میں خرید و فروخت صرف رجسٹرڈ بریڈرز اور ڈیلرز کے ذریعے ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکندری طوطا اور دیگر نسلیں صنعتی ترقی، درختوں کی کمی اور غیر قانونی اسمگلنگ کی وجہ سے تیزی سے غائب ہو رہی ہیں۔ بین الاقوامی منڈی میں ایک جوڑے کی قیمت لاکھوں روپے تک پہنچ جاتی ہے، جس کی وجہ سے غیر قانونی کاروبار بھی فروغ پا رہا ہے۔
اب تک ایک ہزار سے زیادہ شہری اپنے طوطوں کی رجسٹریشن کروا چکے ہیں، جبکہ بعض شہری موبائل ایپ کی بجائے دستی رجسٹریشن کے مطالبے کر رہے ہیں۔