وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب پاکستان کے لیے صرف ایک ماحولیات کا چیلنج نہیں رہی، بلکہ ’بقا کا خطرہ‘ بن چکی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ پاکستان جیسے ممالک کو سادہ، تیز اور مؤثر کلائمیٹ فنانسنگ تک فوری رسائی دی جائے۔
ڈان نیوز کے مطابق وزیر خزانہ نے برازیل میں ہونے والے COP 30 کلائمیٹ فنانس ڈائیلاگ میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا، جہاں انہوں نے گرین کلائمیٹ فنڈ کے پیچیدہ اور سست طریقہ کار پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے اپنی این ڈی سیز، نیشنل ایڈاپٹیشن پلان اور کلائمیٹ پراسپیرٹی پلان کے ذریعے لائحہ عمل تو طے کر لیا ہے، اب دنیا کو عملی مدد فراہم کرنا ہوگی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ “اب وقت عمل اور نتائج کا ہے، نقصان و تلافی فنڈ کو حقیقی ادائیگیوں کا آغاز کرنا چاہیے۔”
وزیر خزانہ کے مطابق عالمی بینک نے پاکستان کے لیے سالانہ 2 ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا ہے، جس میں سے ایک تہائی رقم کلائمیٹ منصوبوں پر خرچ ہوگی۔ انہوں نے ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر عالمی اداروں کی معاونت کا بھی اعتراف کیا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اپنی کلائمیٹ فنانسنگ کے ذرائع کو وسعت دے رہا ہے، اور ملک کا پہلا پانڈا بانڈ رواں سال کے آخر تک جاری کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ گرین سکوک اور کاربن مارکیٹ کے منصوبوں پر بھی پیش رفت جاری ہے۔
خطاب کے اختتام پر وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی براہِ راست موسمیاتی خطرات سے جڑی ہے، اور ملک کا مستقبل اسی وقت محفوظ ہو سکتا ہے جب ہم موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے قابل ہوں۔









