بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نئی تحقیق: فضائی آلودگی دل کی شریانوں میں رکاوٹ اور امراضِ قلب کے خطرے کو بڑھاتی ہے

ایک تازہ طبی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ فضائی آلودگی دل کی شریانوں میں رکاوٹ اور سختی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جس کے نتیجے میں دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق شکاگو میں ریڈیالوجیکل سوسائٹی آف نارتھ امریکا کے سالانہ اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ طویل عرصے تک فضائی آلودگی کے زیرِ اثر رہنے والے افراد میں شریانوں کی سختی اور پلاک جمع ہونے کے باعث دل کی سنگین بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
تحقیق کے مرکزی محقق ڈاکٹر فلپ کاسٹیلو اراوینا نے کہا کہ فضائی آلودگی کی سطح، چاہے سرکاری معیارات کے قریب یا اس سے کم ہی کیوں نہ ہو، شریانوں میں پلاک اور سختی کے ابتدائی آثار سے منسلک پائی گئی۔
اس مطالعے کے لیے ٹورنٹو کے تین اسپتالوں میں زیرِ علاج 11 ہزار سے زائد بالغ افراد کی دل کی صحت اور فضائی آلودگی کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے سی ٹی اسکین کے ذریعے شریانوں کا تجزیہ کیا اور فضائی آلودگی کی سطح کا اندازہ مریضوں کے ہوم پوسٹل کوڈز اور ماحولیاتی ڈیٹا سے لگایا۔
نتائج میں سامنے آیا کہ ہر 1 مائیکروگرام فی مکعب میٹر اضافی فضائی آلودگی کے ساتھ دل کی شریانوں میں کیلشیئم کی مقدار میں 11 فیصد اضافہ، پلاک کے بننے کے امکانات میں 13 فیصد اضافہ اور دل کی بیماری کے خطرے میں 23 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ جیسی دیگر آلودہ گیسوں کا اثر بھی منفی رہا، اگرچہ کم شدت کا۔
تحقیق میں مردوں اور خواتین میں فرق بھی سامنے آیا۔ خواتین میں باریک ذرات کی وجہ سے شریانوں میں زیادہ تنگی اور کیلشیئم کی زیادتی دیکھی گئی، جبکہ مرد بھی زیادہ آلودگی کی صورت میں کیلشیئم اور پلاک کے بڑھنے کا شکار پائے گئے۔
یونیورسٹی آف ٹورنٹو کی کارڈیک ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر کیٹ ہینی مین نے کہا کہ دل کی بیماری دنیا بھر میں موت کی سب سے بڑی وجہ ہے، اور یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ فضائی آلودگی ایک قابلِ کنٹرول عامل ہے، جسے کم کر کے دل کی بیماری کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین نے مزید تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ فضائی آلودگی دل اور خون کی نالیوں کو کس طرح نقصان پہنچاتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون معلوماتی مقصد کے لیے ہے، صحت کے مسائل میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔