بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حکومت کو صدرمملکت کی طرف سے پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں شدید تنقیدکاخدشہ

    اسلام آباد(محمداکرم عابد) آئین کے تحت صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کے آئندہ ماہ پانچویں پارلیمانی سال کے آغازپر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے معاملے پرحکومت میں اعلیٰ سطح پر مشاورت کا آغاز، وزیراعظم شہبازشریف اس انتہائی غیرمعمولی معاملے پر حکومتی اتحادکے قائدین سے مشاورت کے بعد حتمی حکومتی حکمت عملی کا فیصلہ کریں گے۔ حکومت کو خدشہ ہے کہ صدر مملکت روایت کے مطابق حکومت کی طرف سے فراہم کی جانے والی تقریرکونظراندازکر کے اپنے خطاب میں حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناسکتے ہیں جس سے حکومت اورایوان صدر میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔جمعرات کو پارلیمانی ذرائع کے مطابق صدر مملکت مبینہ دھمکی آمیز امریکی خط اور عمران خان حکومت کے خلاف امریکی سازش کا معاملہ بھی اپنے خطاب میں اٹھا سکتے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق اگلے ماہ 13اگست کوموجودہ پارلیمنٹ کے نئے اور آخری پارلیمانی سال شروع ہونے پرحکومت کو مشترکہ اجلاس سے صدارتی خطاب کا مرحلہ درپیش ہے۔ روایت کے مطابق نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر حکومت کی طرف سے صدر کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے لئے اجلاس کی سمری ایوان صدرارسال کی جاتی ہے،صدر کو مشترکہ اجلاس سے خطاب کیلئے تقریر وزارت پارلیمانی کی جانب سے ارسال کی جاتی ہے تاہم اس بار صدرمملکت خطاب کے لئے حکومتی تقریر کو نظر اندازکرسکتے ہیں کیونکہ موجودہ صدرکو سابقہ حکومتی اور اب ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کی طرف سے منتخب کیا گیا اس لئے موجودہ حکومتی اتحاد کے دورمیں صدارتی خطاب کے حوالے سے کوئی نیا تنازع کھڑاہوسکتا ہے۔پارلیمانی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر مشترکہ اجلاس سے متعلق صدریا حکومت دونوں اطراف سے کوئی غیر معمولی فیصلے کئے جاسکتے ہیں ،ان حلقوں کے مطابق امکانات ہیں کہ صدر حکومت کی طرف سے فراہم کردہ تقریر کے مطابق خطاب سے انکارکرسکتے ہیں یا موجودہ حکومت کے خلاف صدر کی ممکنہ تنقیدی تقریرکے پیش نظر وزیراعظم صدارتی خطاب سے متعلق مشترکہ اجلاس کی تحریری ایڈوائس ہی ایوان صدر ارسال کرنے سے گریز کرسکتے ہیں۔ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ نیا اور آخری پارلیمانی سال صدر کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بغیر شروع ہوسکتا ہے اس کی نظیربھی موجودہے سابق فوجی صدر پرویز مشرف اپنی صدارتی مدت میں صرف ایک بارمشترکہ اجلاس سے خطاب کرسکے،اس وقت بھی انہیں پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے سخت احتجاج کا سامنا کرنا پڑ ا تھا،اس ناخوشگوار صورتحال کے باعث جنرل(ر)پرویزمشرف نے اس کے بعد خطاب کے لئے پارلیمنٹ کا رخ نہیں کیا تاہم جمہوری دور شروع ہونے پر سابقہ صدورآصف علی زرداری اور ممنون حسین نے ہر نئے پارلیمانی کے سال کا آغازپر پارلیمنٹ سے باقاعدہ طورپرخطاب کیا۔موجودہ صدرڈاکٹر عارف علوی چار بار 17ستمبر 2018 ، 12ستمبر 2019، 20 اگست 2020، اور 13ستمبر2021 مشترکہ اجلاس سے خطاب کر چکے ہیں۔صدر کے خطاب سے متعلق آئین کے آرٹیکل56 میں وضاحت کی گئی ہے کہ صدرکسی ایک ایوان یا یکجا دونوں ایوانوں سے خطاب کرسکے گا اور اس غرض کے لئے ارکان کی حاضری کا حکم دے سکے گا۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس بار صدارتی خطاب حکومتی کارکردگی کی بجائے حکومت کو صرف مشورے دینے تک محدود رہ سکتا ہے ان کا خطاب تحریک انصاف کی سوچ کی عکاس بھی ہوسکتا ہے اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلے نہیں ہوئے تاہم تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پارلیمنٹ سے صدر کے خطاب کا مرحلہ تحریک انصاف کے لئے اہم موقع ہوگا اس حوالے سے باقاعدہ طور پر پارٹی پالیسی وضح کرتے ہوئے اسے صدر سے مطالبات کی صورت میں پیش کئے جائیں گے، تحریک انصاف کی طرف سے صدرعارف علوی سے سے مبینہ امریکی سائفر کا تذکرہ مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کرنے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے ۔