چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں طویل عرصے سے زیر التوا اور زیادہ مالیت والے ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے ایک مستقل اور ادارہ جاتی فریم ورک بنانے پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین، قانونی ممبران اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
سپریم کورٹ نے اس فریم ورک کو عدالتی مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے، قانونی یقین دہانی بڑھانے اور عوامی محاصل کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری قرار دیا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ طویل المدتی ٹیکس مقدمات نہ صرف مالی وسائل محدود کرتے ہیں بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد اور ملکی معاشی استحکام پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
اجلاس میں عدالت نے بروقت انصاف، مؤثر کارروائی اور پیش بینی پر مبنی اصلاحات کی حمایت کے لیے اپنا عزم دہرایا۔ اجلاس کے دوران ایسے بڑے ٹیکس مقدمات پر ترجیح دینے اور انہیں جلد نمٹانے کے لیے اصلاحاتی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا جو براہ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
مزید برآں، اجلاس میں ٹیکس حکام اور نظام انصاف کے درمیان بہتر رابطہ، مقدمات کے انتظام میں شفافیت اور قانونی تیاری کے طریقہ کار مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی گئی۔ فریم ورک میں فیصلوں میں یکسانیت اور تیزی یقینی بنانے کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق یہ اجلاس وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد عدالتی نظام میں تاخیر کو کم کرنا، گورننس میں بہتری لانا اور عدالتی عمل کو ملکی معاشی و ترقیاتی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔
سپریم کورٹ اجلاس: طویل المدتی ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے مستقل فریم ورک پر غور








