وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ جس انداز سے سندھ حکومت نے مختلف شعبوں میں کارکردگی دکھائی ہے، اسی طرح باقی صوبوں کو بھی عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کا مقصد صرف ایک دوسرے پر تنقید نہیں ہونا چاہیے بلکہ عوامی خدمت اور مثبت کاموں کو اجاگر کرنا ضروری ہے۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے بتایا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دو روز قبل ایوان صدر میں سندھ کے ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی تھی، جس پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوان صدر سب کا ہے اور وہاں مختلف اداروں کی تقریبات منعقد ہوتی رہتی ہیں، اس لیے بریفنگ کے مقام پر تنقید مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے بریفنگ کے دوران جدید طبی سہولت سائبر نائف کا ذکر کیا، جو دنیا کے صرف 11 ممالک میں دستیاب ہے۔ حکومت سندھ اس منصوبے کی قیادت کر رہی ہے اور یہ علاج عوام کو مفت فراہم کیا جا رہا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
شرجیل میمن کے مطابق سندھ حکومت سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے 21 لاکھ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے، جو پاکستان میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی ایک نمایاں مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے اسپتالوں میں علاج کے لیے آنے والے افراد سے ڈومیسائل نہیں پوچھا جاتا اور اب تک 29 لاکھ افراد کا مفت علاج کیا جا چکا ہے۔
وزیر اطلاعات سندھ نے تھر کول منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پر اب تک ایک ارب ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔ تھرپارکر میں کوئلے کے بڑے ذخائر موجود ہیں اور یہاں سے پیدا ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جا رہی ہے، جس سے پورے ملک کو فائدہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کی جانب سے دی گئی بریفنگ کو مجموعی طور پر سراہا گیا اور یہ پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا ایونٹ تھا، جس میں سفارتکاروں اور بزنس کمیونٹی نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی بریفنگز بیرون ملک بھی ہونی چاہئیں تاکہ دنیا کو پاکستان کی صلاحیتوں اور وسائل سے آگاہ کیا جا سکے۔
شرجیل میمن نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے سندھ دورے کے دوران انہیں مکمل احترام دیا گیا اور کسی کام سے نہیں روکا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کچھ اقدامات ناگزیر تھے، تاہم آئینی عہدے کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو عزت اور سہولت فراہم کی گئی۔









