بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ٹاپ 15 سرکاری اداروں کا منافع 5 فیصد کم ہو کر 622 ارب روپے رہ گیا

ٹاپ 15 سرکاری اداروں کا منافع 5 فیصد کم ہو کر 622 ارب روپے رہ گیا
پاکستان کے ٹاپ 15 سرکاری اداروں (SOEs) نے گزشتہ مالی سال میں مجموعی طور پر 622 ارب روپے منافع کمایا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 30 ارب روپے یا 5 فیصد کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف ایک سرکاری کمپنی کا سالانہ منافع 100 ارب روپے سے تجاوز کر سکا، جبکہ تین کمپنیوں کا منافع 50 ارب روپے سے زیادہ رہا۔ یہ تفصیلات وزارتِ خزانہ کی نئی رپورٹ میں سامنے آئیں، جسے کابینہ کمیٹی برائے سرکاری اداروں نے منظوری دے دی ہے۔
رپورٹ میں سرکاری اداروں کے گورننس ڈھانچے میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بورڈز کی کارکردگی غیر مؤثر رہی اور ان کی آڈٹ اور رسک کمیٹیوں کی نگرانی بھی کمزور رہی۔ وزارتِ خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کے مطابق بیشتر بورڈز صرف رسمی نوعیت کے ہیں، اور ان کی کارکردگی کا کوئی باقاعدہ جائزہ یا معیار موجود نہیں۔
مالی سال 2024-25 کے دوران آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (OGDCL) واحد ادارہ رہا جس نے 170 ارب روپے منافع کمایا، جبکہ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ نے 90 ارب روپے اور نیشنل بینک آف پاکستان نے 57 ارب روپے منافع حاصل کیا۔ چوتھا بڑا منافع کمانے والا ادارہ واپڈا رہا، جس نے 52 ارب روپے منافع کمایا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بورڈز میں 50 فیصد آزاد نمائندگی موجود ہونے کے باوجود آڈٹ اور رسک کمیٹیوں کی آزادی کمزور ہے، اور انتظامیہ کو مؤثر چیلنج نہیں کیا جاتا۔ صرف 36 فیصد سرکاری اداروں کے آڈٹس مکمل ہو سکے، جس کے باعث مالی فیصلے اکثر اندازوں پر مبنی کیے جاتے رہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پہلے فیصلہ کیا تھا کہ سرکاری افسران جو مختلف بورڈز کے رکن ہیں، وہ بورڈ فیس میں ایک لاکھ روپے سے زیادہ نہیں رکھ سکیں گے اور اضافی رقم حکومت میں جمع کرانا ہوگی، تاہم بعد میں بیوروکریسی کے دباؤ پر یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کے مجموعی نقصانات 6.5 کھرب روپے تک پہنچ چکے ہیں، جس سے سرکاری اداروں کی مالی اصلاحات اور مؤثر گورننس کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا ہے۔