اسلام آباد (طارق محمود سمیر) مودی حکومت کے معاشی ترقی کے بلند و بانگ دعوے زمینی حقائق کے سامنے بکھرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ناقص حکمتِ عملی اور ناکام خارجہ پالیسی نے نہ صرف مودی کے علاقائی تسلط کے بیانیے کو کمزور کیا بلکہ اسے ایک بھونڈا دعویٰ ثابت کر دیا ہے۔ عالمی جریدےدی ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں مودی کے بدترین دورِ اقتدار کے دوران بھارت کی ناکام سفارتکاری کو بے نقاب کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی ادارہ جاتی حصص کی بڑے پیمانے پر فروخت اور ممکنہ امریکی پابندیوں کے دباؤ نے مودی حکومت کو امریکہ کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیا۔ بھارت پر بھاری ٹیرف اور امریکی امیگریشن قوانین میں سختی کو مودی کے خطے میں بالادستی کے خواب پر ایک زوردار طمانچہ قرار دیا گیا ہے۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق روس۔یوکرین جنگ میں پھنسے سینکڑوں بھارتی شہریوں کی مدد کرنے میں بھی نام نہاد ’’وشو گرو‘‘ مودی بے بس نظر آئے۔ دوسری جانب ایران نے گرفتار بھارتی بحری عملے تک مودی حکومت کو رسائی دینے سے بھی صاف انکار کر دیا، جو بھارت کی سفارتی کمزوری کا واضح ثبوت ہے۔ امریکی دباؤ کے نتیجے میں بھارت کا ایران کے ساتھ اسٹریٹجک اہمیت کا حامل چاہ بہار بندرگاہ منصوبہ ختم کرنا بھی اسی ناکام خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ مودی کی ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث بھارت کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ گزشتہ سال 116.1 بلین ڈالر تک جا پہنچا۔ علاوہ ازیں، یورپ کے حوالے سے مودی اور بھارتی وزیر خارجہ کے متضاد اور منافقانہ بیانات کو بھی عالمی جریدے نے بے نقاب کیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق مودی کا خطے میں تسلط کا بیانیہ محض دعوؤں تک محدود ہے، جس کی کوئی ٹھوس حقیقت نہیں۔ بین الاقوامی دباؤ کے سامنے بار بار جھک جانا مودی حکومت کی بدترین سفارتکاری کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی کمزور سفارتی و معاشی پالیسیاں اور عوامی اعتماد میں مسلسل کمی مودی حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت بن چکی ہیں۔
مودی حکومت کی ناقص حکمتِ عملی ،ناکام خارجہ پالیسی اور ناکام سفارتکاری بے نقاب








