کراچی کے علاقے ڈسٹرکٹ سینٹرل میں ایک شہری نے الزام عائد کیا ہے کہ شاہین فورس کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر رشوت نہ دینے پر اسے تھانے لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ واقعے کے بعد پولیس حکام نے انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
نجی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ شریف آباد کے قریب غریب آباد پھاٹک پر قائم ایک ناکے پر پیش آیا، جہاں موٹر سائیکل پر سوار شہری انور علی کو روکا گیا۔ متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ اہلکاروں نے اس سے مبینہ طور پر دو ہزار روپے طلب کیے۔ انکار کرنے پر اس کے کاغذات چیک کیے گئے اور بعد ازاں اسے شریف آباد تھانے منتقل کر دیا گیا۔
انور علی، جو گلبرگ فیڈرل بی ایریا بلاک 4 کے رہائشی اور مرغیوں کی فیڈ بنانے کے کارخانے کے مالک ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ تراویح کے بعد جم سے واپس آ رہے تھے اور گھر والوں کے لیے کھانا لے کر جا رہے تھے جب انہیں روکا گیا۔ ان کے مطابق تھانے میں ڈیوٹی افسر اور دیگر اہلکاروں نے ایک کمرے میں لے جا کر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مقابلے میں “ہائی فائر” کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں، جس سے وہ شدید خوفزدہ ہو گئے۔
متاثرہ شہری کے مطابق تشدد کے باعث وہ دو روزے بھی نہ رکھ سکے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کا موبائل فون توڑ دیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر اہل خانہ، اہل محلہ اور وکلا کی بڑی تعداد تھانے پہنچی، جس کے بعد انہیں رہا کیا گیا۔
انور علی نے سی پی ایل سی سے میڈیکل لیٹر حاصل کر کے عباسی شہید اسپتال میں طبی معائنہ بھی کرایا، جہاں بقول ان کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس قدر خوفزدہ ہو گئے تھے کہ انہیں اپنی جان کا خطرہ محسوس ہونے لگا تھا۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر عمران خان نے شکایت پر انکوائری کا حکم دیتے ہوئے معاملہ ڈی ایس پی لیاقت آباد کے سپرد کر دیا ہے۔ ڈی ایس پی وسیم احمد کا کہنا ہے کہ متاثرہ شہری کو بیان کے لیے طلب کیا گیا ہے اور تمام الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے رپورٹ مرتب کی جائے گی۔
پولیس کی جانب سے جاری تحقیقات کے بعد ہی واقعے کی مکمل حقیقت سامنے آئے گی، تاہم اس واقعے نے شہریوں کے تحفظ اور پولیس کے رویے سے متعلق ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کراچی: مبینہ رشوت سے انکار پر شہری پر تشدد، انکوائری کا حکم








