حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں ماضی میں کی گئی مبینہ غیر قانونی تقرریوں اور بغیر منظوری دی گئی مراعات کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک ترمیمی بل پیش کر دیا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت سابقہ فیصلوں، تقرریوں اور انتظامی اقدامات کو باقاعدہ قانونی حیثیت دینے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ مستقبل میں ان پر کوئی قانونی سوال نہ اٹھایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے عبوری طور پر گریڈ 21 اور 22 کے افسران کی تقرری کا اختیار سیکریٹری ریونیو ڈویژن (گریڈ 22) کو سونپ دیا ہے۔ یہ انتظام اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک پارلیمنٹ سے متعلقہ قانون سازی کی منظوری نہیں ہو جاتی۔
تاہم ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مصطفیٰ امپیکس کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روح سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس فیصلے میں واضح کیا گیا تھا کہ ’’وفاقی حکومت‘‘ سے مراد وفاقی کابینہ ہے اور اختیارات اجتماعی طور پر استعمال کیے جائیں گے، نہ کہ کسی ایک عہدیدار کے ذریعے۔
حکومت نے ایف بی آر ایکٹ 2007 میں ترمیم کی بھی تجویز دی ہے، جس کے تحت ارکان کی تقرری کا اختیار مستقل طور پر وفاقی کابینہ سے لے کر سیکریٹری ریونیو ڈویژن کو منتقل کیا جا سکے گا۔
بل میں 2016 سے اب تک کی گئی تمام تقرریوں اور ان کے تحت کیے گئے اقدامات کو قانونی تحفظ دینے کے لیے ایک ’’انڈیمینٹی کلاز‘‘ شامل کی گئی ہے۔ اس شق کے ذریعے ایف بی آر کے چیئرمین، ارکان یا بورڈ کی جانب سے جاری کردہ احکامات، معاہدے، نوٹیفکیشنز، مراعات اور انعامات—even وہ مراعات بھی جو پالیسی بورڈ کی منظوری کے بغیر دی گئیں—کو مؤثر اور جائز قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
مزید برآں، بل میں ایف بی آر کے پالیسی بورڈ کو ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ یہ بورڈ وزیر خزانہ کی سربراہی میں قائم تھا اور اس میں کابینہ و پارلیمنٹ کے نمائندے شامل ہوتے تھے۔ مجوزہ ترامیم کے مطابق پالیسی سازی کا اختیار بیوروکریسی کے زیر انتظام ٹیکس پالیسی آفس کو منتقل کیا جا رہا ہے۔
یہ بل گزشتہ ہفتے سینیٹ میں پیش کیا گیا اور مزید غور و خوض کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی رواں ہفتے اس معاملے کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کرے گی، جس کے بعد اس بل کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔
ایف بی آر میں تقرریوں اور مراعات کو قانونی تحفظ دینے کا بل سینیٹ میں پیش








