بھارت کی موجودہ خارجہ پالیسی اور مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات اب اس کی معیشت اور عوامی زندگی پر واضح طور پر ظاہر ہونے لگے ہیں۔
امریکی جریدے دی نیو یارک ٹائمز نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کو بھارتی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو بھارت کے مالی وسائل پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
جریدے کے مطابق بھارت میں گھریلو گیس کی قلت پہلے ہی صارفین کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی بڑے خلل کے باعث توانائی کی فراہمی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید یہ کہ خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر اور بھارتی برآمدات بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے نہایت اہم ستون سمجھی جاتی ہیں۔ اسی تناظر میں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران بھارتی اسٹاک مارکیٹ تقریباً 10 فیصد تک گر چکی ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔
دوسری جانب عالمی سرمایہ کاری بینک گولڈمین ساکس نے بھی خبردار کیا ہے کہ آئندہ سال بھارت کو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کمزور کرنسی جیسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق وزیرِاعظم نریندر مودی کی اسرائیل سے بڑھتی ہوئی قربت، خصوصاً بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ تعلقات، بھارت کے معاشی مفادات پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خارجہ پالیسی میں توازن کی کمی کے باعث ملک کو معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ گرتی ہوئی معیشت، بڑھتا ہوا عوامی بوجھ اور توانائی کی قلت اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسیوں کے اثرات براہِ راست عام شہریوں تک پہنچ رہے ہیں۔
مجموعی طور پر ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں متوازن اور محتاط حکمتِ عملی اختیار کرنا ہی بھارت کے معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
اسرائیل سے قربت اور خلیجی کشیدگی: بھارتی معیشت پر منڈلاتے خطرات








