امریکی ویب سائٹ ایکیزیوس کے رپورٹر بارک روید کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات پاکستان، ترکی اور مصر کی سہولت کاری میں ہوئے۔
غیر ملکی نیوز ایجنسی رائٹرز نے بھی رپورٹ کیا کہ یہ تینوں ممالک دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ مذاکرات میں پیش رفت ہو سکے۔
بارک روید کے مطابق، مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے والے ممالک چاہتے ہیں کہ اس ہفتے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اسلام آباد میں ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف سمیت ایرانی وفد سے ملاقات کریں۔
دوسری جانب برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے لکھا ہے کہ پاکستان خود کو ایران کے خلاف کشیدگی ختم کرنے کے لیے ایک مرکزی ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے، اور سینئر پاکستانی حکام ایرانی عہدے داروں اور امریکی وفد کے درمیان خفیہ رابطے کروا رہے ہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر فریقین راضی ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، تاکہ خطے میں امن اور تعاون کے مواقع کو فروغ دیا جا سکے۔
امریکا اور ایران کے مذاکرات میں پاکستان، ترکی اور مصر نے سہولت کاری فراہم کی








