بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایران جنگ کا 25 واں دن: ٹرمپ کے مذاکراتی دعوے، تہران نے دوٹوک انکار کر دیا

ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جاری جنگ 25 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے، اور ممکنہ امن مذاکرات کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور ایک وسیع معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے، تاہم ایرانی حکام نے ان دعووں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایرانی توانائی کے انفراسٹرکچر پر مجوزہ حملوں کو عارضی طور پر پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے ایران کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کھول دے، بصورت دیگر ایرانی پاور پلانٹس کو تباہ کرنے کی دھمکی دی گئی تھی، تاہم بعد ازاں ڈیڈ لائن میں توسیع کر دی گئی۔
ایران نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے اس کا موقف تبدیل نہیں ہوا، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ایشیائی ممالک، خصوصاً جنوبی کوریا اور جاپان، اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کا زیادہ تر تیل اسی راستے سے آتا ہے۔
خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ ایران نے اسرائیل پر مزید میزائل حملے کیے، جبکہ خلیجی ممالک میں متعدد ڈرون اور میزائل حملے ناکام بنائے گئے۔ سعودی عرب نے اپنے مشرقی علاقے کی طرف آنے والے تقریباً 20 ڈرونز کو تباہ کیا، جبکہ کویت اور بحرین میں خطرے کے سائرن بارہا بجائے گئے۔
لبنان، عراق اور شام میں بھی جھڑپوں میں شدت آئی ہے۔ اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات پر حملہ کیا، جبکہ امریکا نے عراق کے صوبہ الانبار میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ ماہرین کے مطابق عراق اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ایک ثانوی میدان جنگ بن چکا ہے۔
ادھر ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور امریکا و اسرائیل کے خلاف احتجاج کیا، جس سے ایرانی قیادت نے مزاحمت کی طاقت کا پیغام دیا۔
امریکا کے اندر بھی اس جنگ پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تیل اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکی معیشت پر اثر ڈال رہی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ ممکنہ طور پر جنگ سے نکلنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔
اس دوران برطانیہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے فضائی دفاعی نظام بھیجنے کا اعلان کیا ہے تاکہ ایرانی میزائل حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے، جبکہ خطے کے ممالک مسلسل کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی اپیل کر رہے ہیں۔