امریکی اور اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکا نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک 15 نکاتی منصوبہ تیار کیا اور تہران کو بھجوا دیا ہے، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق ابھی تک امریکا یا ایران کی جانب سے نہیں ہوئی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نام نہ ظاہر کرنے والے حکام نے بتایا کہ اس منصوبے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے تین بڑے جوہری مراکز بند کرے اور اپنی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر روک دے۔
مزید بتایا گیا کہ ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو معطل کرے اور خطے میں اپنے حمایت یافتہ گروہوں کی مدد محدود کرے۔ منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دے تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل معمول پر آجائے۔
اس کے بدلے میں امریکا ایران پر عائد جوہری پابندیوں میں نرمی کرے گا اور اس کے سویلین جوہری پروگرام میں معاونت فراہم کرے گا۔
رپورٹس میں پاکستان کے ممکنہ کردار کی بھی بات کی گئی ہے، تاہم اس کی تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکا اس منصوبے پر بات چیت کے لیے ایک ماہ کی جنگ بندی چاہتا ہے تاکہ دونوں ممالک تفصیلی مذاکرات کر سکیں، تاہم اب تک دونوں فریقین کی جانب سے اس تجویز پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
امریکا نے ایران کو جنگ بندی کے لیے 15 نکاتی خفیہ پلان بھجوا دیا، انکشاف








