اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان کے اختتام پر لکھے گئے الفاظ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ نے عالمی سطح پر غیر معمولی توجہ حاصل کر لی، جس کے بعد بین الاقوامی میڈیا میں اس بیان پر بحث تیز ہو گئی۔ معروف اینکر پرسن حامد میر نے بھی اس پیش رفت پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے اس نعرے کے پس منظر اور سفارتی اہمیت کو اجاگر کیا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان کے ساتھ ایک ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں تہران کی سڑکوں پر عوام کو ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے امریکی میڈیا کی ان خبروں کو مسترد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے سے انکار کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے وضاحت کی کہ ایران امن کے قیام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتا ہے، تاہم کسی بھی مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے قابلِ اعتماد ضمانت ضروری ہے۔
تجزیہ نگار حامد میر کے مطابق اس بیان کے پیچھے ایک طویل سفارتی پس منظر موجود ہے، جس میں پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے اور جنگ بندی کے لیے مسلسل کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق جنگ سے قبل پاکستان نے اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کے ذریعے ایران کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی۔
ذرائع کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فوری طور پر ایران پر حملے کی مذمت کی اور ایرانی ہم منصب سے رابطہ کر کے صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر قریبی رابطے برقرار رہے۔
ریاض میں ہونے والے اہم اجلاس کے حوالے سے حامد میر نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ صرف ایران ہی نہیں بلکہ اسرائیل کے اقدامات کی بھی مذمت ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق بعض ممالک صرف ایران کے خلاف بیان جاری کرنے کے حق میں تھے، تاہم پاکستان، ترکی اور دیگر ممالک کی کوششوں سے اعلامیے میں توازن پیدا کیا گیا۔
بعد ازاں اسلام آباد میں ہونے والی مشاورت اور چین کے ساتھ رابطوں کے نتیجے میں پاکستان نے ایک جامع پانچ نکاتی فارمولا پیش کیا، جس میں جنگ بندی، خطے میں استحکام اور بین الاقوامی قوانین پر عملدرآمد کی تجاویز شامل تھیں۔ ماہرین کے مطابق اس فارمولے کو عالمی سطح پر مثبت پذیرائی ملی۔
حامد میر کے تجزیے کے مطابق عباس عراقچی کی جانب سے ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ دراصل پاکستان کی انہی سفارتی کوششوں کا اعتراف ہے، جن کے ذریعے پاکستان نے نہ صرف خطے میں امن کے لیے کردار ادا کیا بلکہ مختلف عالمی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی بھی کوشش کی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ کردار مستقبل میں بھی مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے اس طرح کے بیانات دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کی عکاسی کرتے ہیں۔









