بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عمران خان کا دباؤ مسترد۔ حکومت اور اتحادی جماعتیں عام انتخابات مقررہ وقت پر کرانے پر ڈٹ گئیں

 

لاہور(نیوزڈیسک) حکومت اور اتحادی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک میں انتخابات عمران خان کے دباؤ پر نہیں بلکہ حکومتی اتحاد کے متفقہ فیصلے کے تحت ہی ہوں گے۔
اتحادی جماعتوں کا اجلاس وزیراعظم شہباز شریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی مشترکہ صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری، مولانا شاہ اویس نورانی سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز، ایم کیو ایم پاکستان کے خالد مقبول صدیقی، وزیر ہوابازی خواجہ سعد رفیق،ایاز صادق، وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، شاہ زین بگٹی، میاں افتخار حسین، مشاہد حسین سید، اکرم درانی، طارق بشیر چیمہ، احد چیمہ، ایاز صادق، سالک حسین، محسن داوڑ، اسلم بھوتانی، فہد حسین سمیت دیگر رہنما بھی شریک ہوئے ۔
ذرائع کے مطابق اتحادی جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ قبل از وقت انتخابات بہتر آپشن نہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں بھی وزارت اعلیٰ کو بچانے کیلئے بھی تمام اتحادی جماعتیں کوشش کریں گی۔
اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفر نس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ تمام صوبائی حکومتوں کو حق ہے کہ اپنی مدت پوری کریں،وفاقی حکومت بھی اپنی مدت پوری کرے گی ، اس سلسلے میں ابہام پیدا کرنے یا شوشے چھوڑنے سے گریزکیا جائے۔
انہوں نےکہاکہ پنجاب کے ضمنی انتخابات کسی کی مقبولیت یا عدم مقبولیت کا پیمانہ نہیں، ضمنی الیکشن میں 2018کے عام انتخابات کے مقابلے میں ہمارے ووٹوں میں 38فیصداضافہ ہوا،ن لیگ اور اتحادیوں نے ان کی بیس میں سے پانچ نشستیں جیتی ہیں یہ کس بات کے شادیانے بجارہے ہیں۔
انہوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ یہ گمراہ آدمی ہے اس پر شیاطین اترتے ہیں،اس نے گمراہوں کا گروہ تیارکیاہے،ہماری قیادت نے جمہوریت کے لئے قربانیاں دیں یہ تو صرف آوارہ گردی کرتا ہے، دوسروں کو چیری بلوسم کہتاہے تم خوکیا ہو ،سر سے پاؤں تک خوشامدی ہو۔ہمیں اپنی سیاست بچانا خوب آتاہے لیکن ہم نے ایسانہیں کیاہمیں معلوم تھا کہ بارودی سرنگیں لگی ہیں لیکن اپنے ملک کو چھوڑ کا بھاگا نہیں جاتا۔
انہوں نے کہاکہ یہ شخص سازشی اور ذہنی مریض بھی ہے،جو پیسہ خرچ کررہاہے وہ کہاں سے آرہا ہے۔ضمنی الیکشن میںاسٹیبلشمنٹ کا کردارغیرجانبدار تھا اس کی تعریف کرنی چاہیے، ہمیں پانچ سیٹیں ملیں ہم تحسین کررہے ہیں جس کو پندرہ سیٹیں ملیں وہ رو رہاہے ۔
سعد رفیق نے کہا کہ آج کے اجلاس میں سوال اٹھایاگیا کہ کیا وجہ ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ نہیں ہوتا، برسوں سے التواکا شکار فارن فنڈنگ کیس کافیصلہ فوری سنایا جائے۔پی ٹی آئی کو مرضی کا چیف الیکشن کمشنر،مرضی کا آرمی چیف اور کٹھ پتلی صدر چاہیے۔جب مرضی کا فیصلہ نہیں آتا تو کہتا ہے کہ پاکستان کے ٹکڑے ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم گزارش کرتی ہے کہ 63اے کی عدالتی تشریح پر ہمیں تحفظات ہیں،قانون سازی پارلیمان کا حق ہے اس میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے،ہم باآوازبلندمطالبہ کرتے ہیں کہ پارلیمان کے فیصلوں کا احترام کیا جائے،کسی کی بھی حکومت ہو نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے نہیں ہونے چاہئیں۔
جے یو آئی (ایف ) کے رہنما اکرم خان درانی نے کہاکہ سیاست کو گندہ کیا گیا ،یہ شخص کس ایجنڈے کے تحت آیا، کبھی عدلیہ پر وارکرتا ہے تو کبھی الیکشن کمیشن پر،اس کے بچے اور پورا قبیلہ باہر ہے،ہم سب جانتے ہیں کہ اگر یہ آدمی مزیدرہا تو ملک دیوالیہ ہوجائےگا۔
انہوں نے کہاکہ آج متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر یہ نہیں رکا تو قانون حرکت میں آئے گا۔انہوں نے کہاکہ یہ بھی فیصلہ ہواکہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔

اے این پی کے میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں، رونے والا آج بھی رو رہا ہے، یہ 20 سیٹیں عمران خان کی تھی جو لوگ بھاگ گئے تھے، عمران خان نے 15سیٹیں جیت کر کوئی تیر نہیں مارا، یہ عجیب انوکھا لاڈلہ ہے، ہم پارلیمنٹ کی سپرمیسی کی بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام ادارے اپنا قبلہ درست کر کے آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کریں، مہنگائی بڑا مسئلہ ہے اس کو کم کرنے کی کوشش کریں گے، آج بھی وزیراعظم کو عوام کو ریلیف دینے کی بات کی، ملکی مفاد میں اتحادی جماعتیں متحد ہیں، ہم آئین کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں، مہنگائی ہمارے گلے پڑی اس کو کم کریں گے، کوئی بھی شخص آئین سے بالاتر نہیں۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ عمران خان نے ملک کی معیشت کو تباہ وبرباد کر دیا،پنجاب میں صاف شفاف الیکشن کے نتائج سے جمہوریت مضبوط ہوئی ہے۔

اس موقع پر ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر نے کہا کہ عمران خان کی حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی،الیکشن میں ہارے سیاسی ورکر کا حوصلہ کبھی کم نہیں ہوتا، ملکی حالات کی بہتری کیلئے اتحادی جماعتیں سر جوڑ کر بیٹھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات جیتنے کے باوجود الیکشن کمیشن پر الزاما ت لگائے جارہے ہیں،دوسروں کو طعنہ دینے والوں کے اپنے بچے ملک سے باہر ہیں۔