برطانیہ کی پارلیمنٹ میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا چرچا ہونے لگا ہے، جس پر پوری قوم فخر محسوس کر رہی ہے۔ حالیہ عالمی کشیدگی، خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعے (dispute)میں کمی لانے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات اور پسِ پردہ سفارت کاری نے نہ صرف جنگ کے خطرات کو کم کیا بلکہ پاکستان کو ایک ذمہ دار اور مؤثر عالمی کردار کے طور پر بھی نمایاں کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، مشرق وسطیٰ جیسے حساس خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششیں نہایت اہم اور قابلِ تعریف ہیں۔
برطانوی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے محمد افضل نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ انہوں نے پاکستانی قیادت کی مخلصانہ کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس موقع پر برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
مزید پڑھیں:پاک، چین وزرائے خارجہ کی 5 نکاتی امن اقدام پر گفتگو
پاکستانی قیادت، جن میں وزیراعظم، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف سید عاصم منیر شامل ہیں، نے مشترکہ طور پر ایسی سفارت کاری کا مظاہرہ کیا جس نے ممکنہ بڑے تصادم کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اب عالمی سطح پر امن اور استحکام کے لیے ایک اہم سفارتی پل کے طور پر ابھر رہا ہے۔









