خطے میں قیامِ امن اور متوازن خارجہ پالیسی کے محاذ پر پاکستان نے ایک بار پھر اپنی برتری ثابت کر دی ہے، جس کا اعتراف اب دشمن ملک کی فوجی قیادت کی جانب سے بھی کیا جا رہا ہے۔ بھارتی فوج (army)کے سابق میجر جنرل (ر)یشپال مورنے مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے برعکس پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے کلیدی قرار دیا ہے۔
میجر جنرل (ر) یشپال مور کے مطابق، حالیہ عالمی و علاقائی تنازعات کے دوران پاکستان نے جس غیر جانبداری اور فہم و فراست کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا بھر کا اعتماد جیتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر پاکستانی عسکری قیادت کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ثالثی کا کردار کسی فیلڈ مارشل کی مہارت سے کم نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دونوں فریقین کے درمیان توازن برقرار رکھ کر اپنی سفارتی ساکھ کو مضبوط کیا ہے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ جہاں پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھرا ہے، وہیں وزیراعظم مودی کی اسرائیل نواز اور جارحانہ پالیسیوں نے بھارت کو ایک “انتہا پسند ریاست” کے طور پر عالمی سطح پر عدم اعتماد کا شکار کر دیا ہے۔ بھارتی فوجی افسران کا اعتراف دراصل مودی کے ان خود ساختہ دعوؤں پر ایک زوردار طمانچہ ہے جن کے ذریعے وہ بھارت کو عالمی طاقت ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:کینڈین وزیر اعظم کا شہباز شریف کو ٹیلیفون، سفارتی کامیابی کا اعتراف ،مبارکباد دی
پاکستان نے حالیہ تنازعات میں نہ صرف ایران پر ہونے والے حملوں اور ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کی شدید مذمت کی، بلکہ اقوامِ متحدہ میں لبنان پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف بھی بھرپور آواز بلند کی۔ یہی وہ متوازن حکمتِ عملی ہے جس کی بدولت پاکستان کے تعلقات سعودی عرب اور چین جیسی عالمی طاقتوں کے ساتھ مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، بھارتی ‘گودی میڈیا کے بے بنیاد پروپیگنڈے اور فیک نیوز کے باوجود، سابق اعلیٰ فوجی افسران کا پاکستان کی تعریف کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقت کو زیادہ دیر تک چھپایا نہیں جا سکتا۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت نے اپنی بہترین منصوبہ بندی سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف ملکی دفاع بلکہ عالمی امن کی ضمانت دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔









