مصطفیٰ کمال(mustafa kamal) نے کہا ہے کہ کروڑوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود عوامی سطح پر ویکسین سے متعلق منفی رجحانات میں کمی نہیں آ سکی۔
وفاقی وزیر صحت کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ یونیسف کی جانب سے ویکسین آگاہی کے لیے خطیر رقم خرچ ہونے کے باوجود منفی تصورات برقرار ہیں، آگاہی مہم کا بنیادی مقصد ویکسین سے انکار کرنے والوں کی شرح میں کمی لانا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ویکسین کے حوالے سے عوام کے ذہنوں سے منفی پروپیگنڈے کا خاتمہ ضروری ہے، جبکہ پاکستان کے نام پر خرچ ہونے والے کروڑوں ڈالرز کا درست اور مؤثر استعمال ریاست اور وزارت صحت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس مقصد کے لیے متعدد اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں، اور حقیقی معنوں میں ہیلتھ کیئر کا مقصد لوگوں کو بیماریوں سے بچانا ہے، وزارت صحت عوام کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
مزیدپڑھیں:پٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ہے، عدالت سے رجوع کریں گے: حافظ نعیم
وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ ویکسین سے متعلق عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے جامع حکمتِ عملی مرتب کی جائے، جبکہ شفافیت، احتساب اور نتائج پر مبنی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ منفی رجحانات کا خاتمہ ممکن ہو سکے









