افغانستان میں پولیو (Polio) کے کیسز میں اضافہ ایک تشویشناک صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے، جس نے نہ صرف صحتِ عامہ کے نظام بلکہ لاکھوں بچوں کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انتظامی کمزوریوں، بدامنی اور مؤثر حکمتِ عملی کے فقدان نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
افغان میڈیا رپورٹ “خامہ پریس” کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف نے افغانستان میں پولیو کے پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسدادِ پولیو مہم کو مزید مؤثر اور تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یونیسیف کے مطابق پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کے لیے پولیو ویکسینیشن نہایت ضروری ہے تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے بچایا جا سکے۔
مزید پڑھیں:جنوبی وزیرستان: عوام سونا نکالنے پہنچ گئے، نالے کا پانی پارے سے آلودہ
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ افغانستان میں صحت کے شعبے کو کئی بڑے چیلنجز درپیش ہیں، جن میں سیکیورٹی خدشات، بدامنی اور دور دراز علاقوں تک رسائی میں مشکلات شامل ہیں۔ ان رکاوٹوں کے باعث ویکسینیشن مہمات مؤثر انداز میں نہیں پہنچ پا رہیں۔
ماہرین کے مطابق، موجودہ پالیسیوں اور سخت گیر ماحول نے صحت عامہ کے اقدامات کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں انسدادِ پولیو جیسے اہم پروگرام بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے پا رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
مجموعی طور پر صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ انسانی ہمدردی اور صحت عامہ کو ترجیح دیتے ہوئے پولیو کے خاتمے کے لیے فوری اور مشترکہ کوششیں کی جائیں، تاکہ معصوم بچوں کو ایک محفوظ اور صحت مند مستقبل فراہم کیا جا سکے۔









