اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پاکستانی بینکوں میں کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دے دی۔ بینک (bank)نے سرکولر جاری کردیا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق اپریل 2018 میں جاری کیا گیا وہ نوٹیفکیشن جس کے تحت کرپٹو اکاؤنٹس کھولنے پر پابندی عائد تھی، اب واپس لے لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق نئے اقدام کا مقصد مالیاتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران کا سخت انتباہ: بحری ناکہ بندی جاری رہی تو خلیجی تجارت متاثر ہو سکتی ہے
مزید کہا گیا کہ ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026 کے تحت پاکستان میں ایک ریگولیٹری اتھارٹی بھی قائم کر دی گئی ہے، جو کرپٹو کرنسی اور دیگر ورچوئل اثاثوں کی نگرانی کرے گی۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے پاکستان میں ڈیجیٹل فنانس کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری اور جدت کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔









