بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اسرائیلی حملے کے خدشے پر پاکستانی لڑاکا طیاروں نے ایرانی وفد کو سکیورٹی حصار میں ایران پہنچایا

غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز (Reuters) کے مطابق گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے غیر حتمی امن مذاکرات کے بعد پاکستانی فضائیہ نے ایرانی مذاکراتی وفد کو سخت سکیورٹی حصار میں بحفاظت ایران واپس پہنچایا۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایرانی حکام کو خدشہ تھا کہ واپسی کے دوران اسرائیل ان کے طیارے کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس کے پیش نظر پاکستانی فضائیہ نے ایک بڑے حفاظتی آپریشن کا اہتمام کیا۔

ذرائع کے مطابق اس آپریشن میں پاکستانی فضائیہ کے تقریباً دو درجن جنگی طیارے اور ایئر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم (AWACS) طیارے شامل تھے، جنہوں نے اسلام آباد سے روانگی کے بعد ایرانی وفد کو فضائی تحفظ فراہم کیا۔ اس مشن میں چینی ساختہ جے-10 سی لڑاکا طیاروں کی شمولیت بھی بتائی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان کا ایک اور جہاز کویت سے آبنائے ہرمز کی جانب روانہ

خبررساں ایجنسی کے مطابق مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچنے کے بعد ایرانی وفد کو خدشہ تھا کہ حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں، جس کے باعث ان کی واپسی کے لیے غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے۔

ذرائع نے اسے ایک بڑا اور حساس آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فضائیہ نے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ وفد کو ایران تک بحفاظت پہنچایا۔

ایک علاقائی سفارت کار کے مطابق ایرانی وفد نے باضابطہ طور پر سکیورٹی کی درخواست نہیں کی تھی، تاہم انہوں نے اس خدشے کو بھی رد نہیں کیا کہ ان کے طیارے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس کے بعد پاکستان نے حفاظتی اقدامات پر زور دیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی وفد کے طیارے نے تہران میں لینڈ نہیں کیا، تاہم انہیں کس مقام پر اتارا گیا، اس حوالے سے تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔