جانچ کے طریقہ کار میں ناکامی کے باوجود لارڈ مینڈلسن(Lord Mendelssohn) کی امریکا میں بطور سفیر تعیناتی نے برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر(Keir Starmer) کو مشکل میں ڈال دیا ۔
کیئر اسٹارمر نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ایپسٹین اسکینڈل میں شریک پیٹر مینڈلسن کی بطور سفیر تقرری نہیں ہونی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ فیصلے کی ذمہ داری لیتا ہوں، حکام سے کہا ہے کہ پتا کریں کہ یہ فیصلہ کس نے کس بنیاد پر کیا؟
کنزرویٹیو لیڈر کیمی بیڈینوک نےکہا کہ وزیر اعظم دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرا کر ان کے کیرئیر ختم کر رہے ہیں جب کہ وزیر اعظم کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
مزید براں وزیراعظم کو جھوٹا کہنے پر 2 اراکین زارا سلطانہ اور لی اینڈرسن اجلاس سے باہر کردیے گئے۔









