ایرانی فوج کی مشترکہ کمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے سربراہ جنرل عبداللہی نے ایک اہم بیان میں دشمنوں کو خبردار کیا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کا منہ توڑ اور فیصلہ کن (decicive reply)جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
جنرل عبداللہی نے واضح کیا کہ تہران کی دفاعی صلاحیتیں کسی بھی مہم جوئی کو ناکام بنانے کی بھرپور طاقت رکھتی ہیں۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم تجارتی گزرگاہ پر ایران کا کنٹرول انتہائی مضبوط ہے اور زمینی حقائق اس کے برعکس بتانے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
جنرل عبداللہی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی قیادت کو زمینی صورتحال کے بارے میں غلط بیانیہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں ایران کی موجودگی اور دفاعی پوزیشن کو کمزور سمجھنا دشمن کی بھول ہوگی۔
ایرانی فوجی قیادت کے مطابق ان کی افواج الرٹ ہیں اور کسی بھی اشتعال انگیزی کی صورت میں جوابی کارروائی میں لمحہ بھر کی تاخیر نہیں کی جائے گی۔
دوسری جانب ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی نے بھی تہران میں ایک خطاب کے دوران امریکہ کی جانب سے دوبارہ حملوں کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایران امن کا خواہاں ہے لیکن امریکی حملوں کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ غلام حسین محسنی نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی جہاز کے خلاف کوئی بھی معاندانہ اقدام کیا گیا تو اس کا یقینی اور سخت جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سمندری حدود کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا قانونی اور اخلاقی حق محفوظ رکھتا ہے۔









