ہالی ووڈ کے آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار جاویر بارڈیم (Javier Bardem)نے انکشاف کیا ہے کہ فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے کے بعد انہیں فلمی دنیا میں مشکلات اور پیشہ ورانہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ کئی بڑے منصوبے اور برانڈ معاہدے بھی ان کے ہاتھ سے نکل گئے۔
غزہ جنگ کے خلاف کھل کر مؤقف اپنانے والی نمایاں شخصیات میں شمار کیے جانے والے معروف ہسپانوی اداکار نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ انہیں مختلف حلقوں سے یہ سننے کو ملا کہ بعض فلمی پروجیکٹس اور اشتہاری مہمات کے لیے ان کا نام تقریباً فائنل ہو چکا تھا، لیکن ان کے سیاسی مؤقف کی وجہ سے بعد میں انہیں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
57 سالہ اداکار کا کہنا تھا کہ وہ اس صورتحال سے زیادہ پریشان نہیں کیونکہ ان کی زندگی اور کام صرف امریکی اسٹوڈیوز تک محدود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسپین میں رہتے ہیں اور دنیا بھر میں کام کے مختلف مواقع موجود ہیں، اس لیے وہ اپنے مؤقف پر قائم رہنے کو زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔
جاویر بارڈیم نے اس موقع پر ہالی ووڈ کی سینئر اداکارہ سوزن سرانڈن کا حوالہ بھی دیا، جنہیں فلسطین کے حق میں احتجاجی ریلی میں شرکت کے بعد شدید تنقید اور پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بارڈیم کے مطابق یہ صورتحال اس نظام کی خرابی کو ظاہر کرتی ہے جہاں بعض سیاسی آراء رکھنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اداکار نے مزید کہا کہ اگرچہ کچھ حلقوں نے انہیں غیر اعلانیہ طور پر ’بلیک لسٹ‘ کرنے کی کوشش کی، لیکن اب حالات بدلتے محسوس ہو رہے ہیں اور کئی نئے فلم ساز اور تخلیق کار انہیں اپنے منصوبوں میں شامل کرنے میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ
واضح رہے کہ رواں برس منعقد ہونے والی اکیڈمی ایوارڈز 2026 کی تقریب میں بھی جاویر بارڈیم نے فلسطین کے حق میں واضح مؤقف اپنایا تھا۔ انہوں نے اپنے کوٹ پر فلسطینی پرچم کا بیج لگایا اور اسٹیج پر ایوارڈ پیش کرنے سے قبل ’’فلسطین آزاد کرو‘‘ کا نعرہ بھی بلند کیا تھا۔
بعد ازاں انہوں نے بتایا کہ انہیں خدشہ تھا کہ شاید ان کے بیان پر منفی ردعمل آئے گا، مگر اس کے برعکس ہال تالیوں سے گونج اٹھا، جس سے انہیں محسوس ہوا کہ فلمی برادری میں فلسطین کے لیے ہمدردی موجود ہے، اگرچہ بہت سے لوگ کھل کر بات کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔
جاویر بارڈیم کے علاوہ اداکارہ میلیسا بریرا بھی فلسطین سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹس کے بعد مشہور فلم سیریز ’اسکریم 7‘ سے نکالی جاچکی ہیں، جس کے بعد اظہارِ رائے اور سیاسی مؤقف پر ہالی ووڈ کے رویّے سے متعلق بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔








