مکہ مکرمہ: ڈائریکٹر حج مکہ مکرمہ محمد عارف اسلم راؤ (arif aslam raio)نے کہا ہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے متعارف کرایا گیا ’’نسک کارڈ‘‘ پاکستانی عازمینِ حج کے لیے محض شناختی کارڈ نہیں بلکہ ایک ’’ڈیجیٹل محافظ‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔
دورانِ حج ان کی حفاظت، شناخت اور سفری سہولیات کو یقینی بناتا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے عازمینِ حج پر زور دیا کہ وہ اپنے رہائشی مقامات سے باہر نکلتے وقت نسک کارڈ ہر صورت اپنے ساتھ رکھیں، کیونکہ اس کے بغیر مشاعرِ مقدسہ منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں داخلہ ممکن نہیں ہوگا۔
محمد عارف اسلم راؤ نے بتایا کہ حج کے دنوں میں شدید رش کے باعث اکثر عازمین راستہ بھول جاتے ہیں، ایسے میں نسک کارڈ میں موجود کیو آر کوڈ انتہائی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ سکیورٹی اہلکار کوڈ اسکین کرکے فوری طور پر عازمِ حج کے مکتب، خیمہ نمبر اور رہائش کی معلومات حاصل کر لیتے ہیں اور انہیں محفوظ مقام تک پہنچاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سہولت خاص طور پر بزرگ اور پہلی بار حج کرنے والوں کیلئے بہت فائدہ مند ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال نسک کارڈ فزیکل اور ڈیجیٹل دونوں صورتوں میں دستیاب ہے۔
عازمین اپنے موبائل فونز میں ’’نسک ایپ‘‘ لازمی ڈاؤن لوڈ کریں تاکہ کارڈ گم ہونے یا ساتھ نہ ہونے کی صورت میں ڈیجیٹل نسخہ استعمال کیا جا سکے۔ڈائریکٹر حج مکہ کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت ’’پرمٹ کے بغیر حج نہیں‘‘ پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کر رہی ہے اور سکیورٹی اہلکار کسی بھی وقت نسک کارڈ چیک کر سکتے ہیں۔
یہ کارڈ اس بات کا ثبوت ہے کہ عازمِ حج قانونی طور پر رجسٹرڈ ہے اور اسے تمام سرکاری و طبی سہولیات تک رسائی حاصل ہے۔انہوں نے پاکستانی عازمین کو ہدایت کی کہ نسک کارڈ کو پلاسٹک کور میں محفوظ رکھ کر گلے میں لٹکائیں اور اس کی تصویر موبائل فون میں بھی محفوظ کر لیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری شناخت اور رہنمائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں:ہنٹا وائرس کے پھیلائو کا خطرہ، عالمی ادارہ صحت کا 12 ممالک کیلئے الرٹ جاری
محمد عارف اسلم راؤ نے کہا کہ پاکستانی حج مشن عازمین کی ہر ممکن رہنمائی اور سہولت کیلئے متحرک ہے، تاہم عازمین کا تعاون اور نسک کارڈ کا درست استعمال ہی ان کے حج کو آسان، محفوظ اور پُرسکون بنا سکتا ہے۔









