بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امریکی محکمۂ انصاف کا خصوصی حکم، ٹرمپ کے خلاف تمام ٹیکس کیسز بند

امریکا میں ایک غیر معمولی اور متنازع پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ(Donald Trump)، ان کے اہلِ خانہ اور کاروباری اداروں کو ٹیکس سے متعلق موجودہ اور مستقبل کی تمام تحقیقات سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری ایک خصوصی ہدایت نامے میں شامل ہے، جو ایک بڑے قانونی تصفیے کے بعد سامنے آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ معاہدہ اس وقت طے پایا جب ٹرمپ نے ٹیکس ریکارڈز کے مبینہ افشا ہونے سے متعلق امریکی ٹیکس اتھارٹی کے خلاف دائر 10 ارب ڈالر کے مقدمے کو نمٹا دیا۔

قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش کی جانب سے دستخط شدہ دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹرمپ خاندان اور ان کے کاروباری نیٹ ورک کے خلاف نہ صرف موجودہ بلکہ مستقبل میں بھی کسی قسم کی ٹیکس تحقیقات یا قانونی کارروائی نہیں کی جا سکے گی۔

اس فیصلے پر امریکا میں شدید سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے۔ ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اسے صدارتی اختیارات کا غلط استعمال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے قانون کی بالادستی متاثر ہوتی ہے۔

مزیدپڑھیں:اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈیڑھ گھنٹے بجلی بند، عدالتی امور متاثر

سینیٹر ایڈم شیف نے الزام عائد کیا کہ ریاستی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے صدر نے اپنے خاندان کے لیے خصوصی مالی فائدہ حاصل کیا ہے۔ اسی طرح سابق قانونی مشیر رچرڈ پینٹر نے بھی اس اقدام کو آئینی اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی صدر کو سرکاری اداروں کے ذریعے ذاتی فائدہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسی معاہدے کے تحت ایک نیا “اینٹی ویپنائزیشن فنڈ” قائم کیا گیا ہے، جس کے لیے 1.776 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس فنڈ کے سیاسی استعمال کا خدشہ موجود ہے، کیونکہ اس کی نگرانی پانچ رکنی کمیٹی کرے گی جس میں چار ارکان کی تقرری ٹوڈ بلانش کریں گے۔