بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پنکی کے خریداروں کی فہرست منظر عام پر،اہم شخصیات ،کمپنیاں شامل

اسلام آباد ( ملک نجیب ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں مبینہ ڈرگ کوئین انمول عرف پنکی کیس نے ایک بار پھر سیاسی ، انتظامی اور قانونی حلقوں میں ہلچل مچادی۔

اجلاس میں منشیات کے مبینہ بین الاقوامی نیٹ ورک منی لانڈرنگ ، حساس اداروں کی کارروائی ، میڈیا کے کردار اور با اثر شخصیات کے نام سامنے آنے پر اراکین کمیٹی نے سخت سوالات اٹھائے جبکہ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو بھی وضاحت دینا پڑ گئی ، دوسری جانب کراچی پولیس نے انکشاف کیا کہ انمول پنکی گزشتہ اٹھارہ برس سے لاہور اور کراچی میں منشیات کے منظم نیٹ ورک سے وابستہ ہے اور تفتیش اب مالی لین دین اور بینک اکاؤنٹس تک پھیل چکی ہے، روز نامہ ممتاز کو دستیاب دستاویزات اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں پیش کی گئی

تفصیلات کے مطابق مبینہ ڈرگ کوئین انمول عرف پنکی کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں نہ صرف منشیات کے مبینہ نیٹ ورک بلکہ منی لانڈرنگ، بینک ٹرانزیکشنز اور درجنوں افراد و کمپنیوں کے نام بھی سامنے آگئے۔ کمیٹی اجلاس میں انمول پنکی کے مبینہ گاہکوں سہولت کاروں اور استعمال ہونے والے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلی فہرست پیش کی گئی ،

جس میں ونود کمار محمد نثار، نایاب مقبول، ملیح حق ، اریبہ ممتاز ،شہباز درانی، مدیحہ صارم علوی، عبد الله بادی ، شہزاد خان محمد مصطفیٰ ساجد ابراہیم ، عبدالرافع ، احمد مشعال فاد، سید وقار حیدر، محمد ذکی نیازی، وقار حیدر، اسماعیل ڈیڈی ، ذیشان الرحمن ، سید فہد سبحان، لاریب فاطمہ، عبدالله عادل ، نوید قریشی ، سید تیمور علی شاہ محمد انس ، عبد الصبور لغاری، دانیال صدیقی ، صوبیہ آصف، زیاد ظفر بہل ، وسیم شمشاد، نسیم انٹر نیشنل، راشد مسیح ، سندس عارف خان ، ضیاء الحق ، سید فیصل ملک محمد بلال، عبد الحسیب سحر ، لیگا رانٹرنیشنل، ایف آر محمد، بصال امیکا محمد سمیر، ظفر علی اور سبران بی بی کے نام شامل ہیں، جبکہ دوسری فہرست میں بیلڈ کیپیٹل ، ردہ، عادل اسلم ، آفرین فاطمہ محمد صادق، اشرف عادل ، معظم آفتاب، سکائی اوور سیز ، محمد عاطف محمد ارسلان، محمد عدیل، سید سعد الاسلام، شیخ نوید ظفر اور صنم آغا کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ محمد سمیر کے نام نام پر سات بینک اکاؤنٹس موجود ہیں جبکہ فیاض کمیونیکشن، محمد عدیل، فیاض الرحمان اور محمد عباس کے اکاؤنٹس بھی تفتیش کے دائرے میں ہیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس رکن قومی اسمبلی راجہ خرم نواز کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف بھی پیش ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انمول پنکی کے وکیل نے عدالت میں ان کا نام لینے سے پہلے اور بعد میں مختلف بیانات دیے۔

انہوں نے کہا کہ اداروں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی اور ان کے مخالفین نے بھی اعتراف کیا کہ ان کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں۔ کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انمول پنکی گزشتہ اٹھارہ برس سے لاہور اور کراچی میں منشیات کے نیٹ ورک سے وابستہ رہی۔ ان کے مطابق ملزمہ کے موبائل فون سے غیر ملکی ڈیلرز سمیت اہم شواہد حاصل ہوئے جبکہ مختلف بینک اکاؤنٹس میں بڑے پیمانے پر مالی لین دین کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں

مزیدپڑھیں:اداکارہ مومنہ اقبال کے لیگی ایم پی اے پرہراسگی کے الزامات،این سی سی آئی اے میں آج دونوں کی طلبی

جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ منی لانڈرنگ تک وسیع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انمول پنکی بائیکیا رائیڈرز کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی رہی جبکہ اس کے دو بھائی اور دیگر خواتین بھی مبینہ نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ آزاد خان کے مطابق ملزمہ کو لاہور سے نہیں بلکہ حساس اداروں کی مدد سے کراچی سے گرفتار کیا گیا اگر چہ وہ لاہور سے آپریٹ کرتی رہی۔

اجلاس کے دوران خواجہ اظہار الحسن نے سائبر کرائم اور دیگر اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کئی مقدمات میڈ یا حل کر دیتا ہے جبکہ پولیس کے پاس جدید فرانزک سہولیات موجود نہیں۔ رکن کمیٹی آغا رفیع اللہ نے کہا کہ اگر میڈ یا عدالت پیشی نہ دکھاتا تو یہ معاملہ منظر عام پر نہ آتا۔

انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ انمول پنکی لاہور سے گرفتار ہوئی تو کراچی سے گرفتاری کیوں ظاہر کی گئی۔ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ میڈیا نے اس کیس کو غیر معمولی طور پر ہائی پروفائل بنا دیا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ منشیات اور منی لانڈرنگ کے مبینہ نیٹ ورک کی شفاف اور مکمل تحقیقات کی جائیں تا کہ تمام حقائق قوم کے سامنے لائے جاسکیں۔