بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان کا پیٹرولیم درآمدی بل تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات (Petroleum Products)کا درآمدی بل تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، جس کے باعث ملکی معیشت پر دباؤ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور توانائی کی بڑھتی ضروریات نے درآمدی اخراجات کو ریکارڈ سطح تک پہنچا دیا۔

رپورٹ کے مطابق اپریل 2026 میں پیٹرولیم گروپ کا مجموعی درآمدی بل 2 ارب 27 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اپریل 2025 میں یہی بل 1 ارب 35 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھا۔ اس طرح ایک سال کے دوران درآمدی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ سامنے آیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات 97 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ خام تیل کی درآمدات طویل مدتی اوسط سے تقریباً دوگنا رہیں۔ ماہرین کے مطابق اس اضافے نے 2008، 2013 اور 2022 کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپریل 2026 کے دوران 1 ارب 18 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کا خام تیل درآمد کیا گیا، جو ملکی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اس کے مقابلے میں اپریل 2025 میں خام تیل کی درآمدات 53 کروڑ 39 لاکھ ڈالر رہی تھیں۔

مزیدپڑھیں:مومنہ اقبال کا کیس ایک دو روز میں حل کر لیں گے، ڈی جی این سی سی آئی اے

توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیشرفت یہ بھی رہی کہ اپریل 2026 میں پاکستان نے ایل این جی درآمد نہیں کی، تاہم ایل پی جی کی درآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اپریل 2026 میں 10 کروڑ 26 لاکھ ڈالر مالیت کی ایل پی جی درآمد کی گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ یہ حجم 8 کروڑ 37 لاکھ ڈالر تھا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی درآمدات میں غیر معمولی اضافے اور عالمی قیمتوں میں تیزی نے پاکستان پر مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ توانائی کی بڑھتی لاگت نہ صرف تجارتی خسارے بلکہ مہنگائی میں اضافے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اپریل 2026 پاکستان کے لیے مہنگے ترین تیل درآمدی مہینوں میں شامل ہو چکا ہے۔