بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان عالمی سفارت کاری کا مرکز بن کر ابھرا ہے، مشاہد حسین سید

پرم ، روس کی میزبانی میں منعقد یوریشین سیکیورٹی فورم میں سینیٹر مشاہد حسین سید (mushahid hussain)کے ساتھ ملاقات کے دوران روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایران اور امریکہ کے درمیان بے معنی جنگ کو ختم کرنے کے لیے امن کو فروغ دینے میں پاکستان کے فعال اور مثبت کردار کی تعریف کی۔

سینیٹر مشاہد حسین سید ،جو ایشیائی سیاسی جماعتوں کی بین الاقوامی کانفرنس (ICAPP) کے شریک چیئرمین ہیں نے روسی وزیر خارجہ کو پاکستان کی امن سفارت کاری کے لیے مستقل کوششوں سے آگاہ کیا جس نے ملک کو دونوں فریقوں کا اعتماد، احترام اور بھروسہ دلایا ہے۔

لاوروف نے ایران جنگ کے بعدنئی حقیقتوں کا حوالہ دیتے ہوئے خاص طور پر پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کی اہمیت کا ذکر کیا۔

سینیٹر مشاہد حسین نے ICAPP وفد کے حصے کے طور پر کوریا، کمبوڈیا اور ایران کے ساتھیوں کے ہمراہ یوریشین سیکیورٹی فورم کے سائیڈ لائنز پر لاوروف سے ملاقات کی۔

یوریشین سیکیورٹی فورم میں اپنے کلیدی خطاب کے دوران، سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ پاکستان عالمی سفارت کاری میں مرکزی مقام حاصل ہے اور دونوں فریقوں کا اعتماد، بھروسہ اور احترام حاصل کیے ہوئے ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ، یورپی یونین، OIC اور عرب لیگ جیسی قائم شدہ تنظیموں کے کردار کی عدم موجودگی پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے چین اور روس کے اصولی موقف کو سراہتے ہوئےکہا کہ یہ ممالک ایک نئے ابھرتے ہوئے عالمی نظام کے روح رواں ہیں جس میں یوریشیا جغرافیائی معاشیات اور جغرافیائی سیاست دونوں میں اسٹریٹیجک ثقل کا مرکز ہوگا۔

سینیٹر مشاہد حسین نے ایک ہندوستانی وفد کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے تمام تنازعات کو حل کرنے کے لیے پرامن مکالمے اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مشرق کے عظیم شاعر و فلسفی علامہ اقبال کا بھی حوالہ دیا، جنہوں نے تقریباً ایک صدی پہلے ایشیا کے عروج اور چین کے عروج دونوں کی پیش گوئی کی تھی۔

مزید پڑھیں:امیر مقام کا سوات ایکسپریس وے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

یوریشین سیکیورٹی فورم میں 20 سے زائد یوریشین ممالک کے 200 بین الاقوامی مندوبین نے شرکت کی۔ فورم کے اختتام پر، روسی میزبانوں نے سینیٹر مشاہد حسین سے درخواست کی کہ وہ حتمی اعلامیہ پڑھ کر سنائیں جس میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق انصاف اور مساوات پر مبنی ایک نئے عالمی نظام کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔