وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف(khawaja asif) نے واضح کیا ہے کہ ابراہیمی معاہدہ پاکستان کیلئے قابلِ قبول نہیں کیونکہ یہ ملک کے بنیادی نظریات اور اصولی مؤقف سے متصادم ہے۔
نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ ابراہیمی معاہدے کے حوالے سے پاکستان سے امریکی محکمہ خارجہ یا کسی دوسرے فورم نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق اس حوالے سے نہ کوئی پیش رفت جاری ہے اور نہ ہی پاکستان پر ایسا کوئی دباؤ ڈالا گیا ہے۔
وزیر دفاع نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے اور اسرائیل سے متعلق پالیسی میں کوئی تبدیلی زیر غور نہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستانی پاسپورٹ پر بھی اسرائیل کا نام شامل نہیں ہے۔
مزیدپڑھیں:قلات میں المناک ٹریفک حادثہ، ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق
غزہ کی صورتحال پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ غزہ معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں اور ایسے حالات میں اعتماد کی فضا پیدا ہونا مشکل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن پر ایک دن کا بھی اعتبار نہ ہو، ان کے ساتھ مذاکرات یا معاہدے کیسے ممکن ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے کہا کہ وہ اپنے غیر روایتی انداز سیاست کے باعث کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور ان کی جانب سے کیے گئے متعدد امن مذاکرات اب نتائج دینا شروع ہو گئے ہیں۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں پاکستان سمیت مختلف مسلم ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کریں۔ ان کے مطابق سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکیہ، مصر اور اردن اس عمل کا حصہ بن سکتے ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات اور بحرین پہلے ہی معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں۔









