بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

موسمیاتی تبدیلیوں کا ایک اور خطرناک اثر سامنے آ گیا: اینٹی بائیوٹک مزاحمت میں اضافہ

موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھتا ہوا درجہ حرارت اب صرف گرمی اور قدرتی آفات تک محدود نہیں رہا، بلکہ انسانی صحت کے لیے ایک اور سنگین خطرہ بھی سامنے آیا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ تبدیلیاں دنیا بھر میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مزاحمت (Antibiotic Resistance) میں اضافہ کر رہی ہیں، جو عالمی صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

تحقیق معروف سائنسی جریدے دی لانسیٹ پلانیٹری ہیلتھ میں شائع ہوئی، جس کے مطابق اینٹی بائیوٹک مزاحمت ایک تیزی سے بڑھتا ہوا عالمی بحران ہے، جس سے ہر عمر کے افراد متاثر ہو سکتے ہیں اور ہر سال 10 لاکھ سے زائد اموات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:وسیم اکرم کی ’شیطان کو خطرناک اِن سوئنگ یارکر‘، ویڈیو وائرل

تحقیق میں خاص طور پر بیکٹیریا سالمونیلا انفیکشن کا جائزہ لیا گیا، جس سے ظاہر ہوا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور اس بیکٹیریا کی مزاحمتی صلاحیت کے درمیان واضح تعلق موجود ہے۔

ماہرین کے مطابق 1940 سے 2040 کے درمیان سالمونیلا سے جڑی اینٹی بائیوٹک مزاحمت میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اگرچہ تحقیق یہ بھی واضح کرتی ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کا غیر ضروری اور زیادہ استعمال اس مسئلے کی بنیادی وجہ ہے، لیکن بڑھتا ہوا درجہ حرارت اس بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں بیکٹیریا کی ساخت اور رویے پر اثر انداز ہو کر انہیں انسانوں کے خلاف زیادہ مزاحم بنا رہی ہیں، جس سے علاج مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:عمران خان نے عید الفطر کی طرح آج عید الاضحیٰ کی نماز بھی کیوں نہیں پڑھی؟

مطالعے میں 1940 سے 2023 تک 139 ممالک کے 4 لاکھ 80 ہزار سے زائد نمونوں کا تجزیہ کیا گیا، جس میں درجہ حرارت اور مزاحمتی جینز کے درمیان براہ راست تعلق سامنے آیا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی سطح پر مربوط پالیسیوں کے ذریعے ماحولیاتی اور صحت کے چیلنجز کو نہ روکا گیا تو آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ مزید خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔