بھارت(India) میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر بعض علاقوں میں مسلمانوں کو درپیش مبینہ مشکلات اور سکیورٹی صورتحال پر مختلف میڈیا رپورٹس اور مبصرین کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
الجزیرہ سمیت بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کچھ مقامات پر عید کی نماز کے لیے عوامی جگہوں کے استعمال سے متعلق پابندیوں یا اعتراضات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث مذہبی اجتماعات کے انعقاد میں مشکلات بیان کی گئی ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں بھارت میں عوامی مقامات پر مذہبی سرگرمیوں کے حوالے سے تنازعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے سماجی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری سے متعلق بحث مزید بڑھ گئی ہے۔
مزید پڑھیں؛انڈسٹری میں اقربا پروری کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، سوناکشی سنہا
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ممبئی سمیت بعض علاقوں میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں سے متعلق صورتحال پر کشیدگی اور احتجاج کے واقعات بھی رپورٹ کیے گئے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق مختلف ذرائع سے ممکن نہیں ہو سکی۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کے بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اسی دوران بعض مذہبی و سیاسی رہنماؤں کی جانب سے عید کے اجتماعات اور انتظامات کے حوالے سے پابندیوں اور محدودیوں پر تنقید بھی سامنے آئی ہے، اور اس حوالے سے مختلف علاقوں میں سیاسی و سماجی بحث جاری ہے۔
مزید پڑھیں؛دل دہلا دینے والا شوپیاں سانحہ: 17 سال گزر گئے، آسیہ اور نیلوفر کو آج تک انصاف نہ مل سکا
دوسری جانب بعض بھارتی ریاستوں میں مویشیوں کی خرید و فروخت اور ذبح کے قوانین میں تبدیلیوں کے بعد عیدالاضحیٰ کے موقع پر منڈیوں کی سرگرمیوں میں کمی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق بھارت میں مذہبی معاملات پر بڑھتے ہوئے تنازعات ایک پیچیدہ سماجی و سیاسی صورت حال کی نشاندہی کرتے ہیں، جس میں مختلف فریقین کے درمیان اعتماد اور مکالمے کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔









