بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امریکا اور چین کی AI دوڑ میں نئی محاذ آرائی، سستی بجلی کو چین کی “خاموش طاقت” قرار

مصنوعی ذہانت (AI) کی عالمی دوڑ میں جہاں امریکا کو جدید چپس اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی میں برتری حاصل ہے، وہیں ماہرین کے مطابق چین ایک اور اہم میدان میں نمایاں سبقت لے چکا ہے—اور وہ ہے سستی اور وافر بجلی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی سسٹمز اور بڑے ڈیٹا سینٹرز چلانے کے لیے بے پناہ توانائی درکار ہوتی ہے۔ اندازوں کے مطابق ایک عام ڈیٹا سینٹر تقریباً ایک لاکھ گھروں کے برابر بجلی استعمال کرتا ہے، جبکہ بڑے ہائپر اسکیل مراکز کی توانائی کھپت اس سے کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق چین اس وقت امریکا کے مقابلے میں مجموعی طور پر زیادہ بجلی پیدا کر رہا ہے، اور آنے والے برسوں میں یہ فرق مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ تحقیقی ادارے بلومبرگ این ای ایف کے مطابق چین قابلِ تجدید توانائی اور مجموعی بجلی پیداوار میں تیزی سے وسعت لا رہا ہے، جس سے اس کی صنعتی اور ڈیجیٹل صلاحیتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق چین نے صرف 2025 میں 430 گیگا واٹ سے زائد شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی نئی صلاحیت شامل کی، جو دنیا بھر میں ہونے والے اضافے کا ایک بڑا حصہ ہے۔

مزید پڑھیں؛اے آئی چینی ماہرین تزویراتی اثاثہ قرار، ملک چھوڑنے پر پابندی عائد، بلومبرگ

چینی حکومت نے ڈیٹا سینٹرز کو توانائی کے بہتر استعمال کے لیے ملک کے مغربی اور کم آبادی والے علاقوں میں منتقل کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے، جہاں زمین سستی ہے اور قابلِ تجدید توانائی کے وسائل زیادہ دستیاب ہیں۔ اس منصوبے کے تحت کئی بڑے سولر اور ونڈ پاور پروجیکٹس کو براہِ راست کلاؤڈ اور ڈیٹا انفراسٹرکچر سے جوڑا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں اے آئی کی عالمی دوڑ صرف جدید چپس تک محدود نہیں رہے گی بلکہ توانائی کی دستیابی بھی ایک فیصلہ کن عنصر بن جائے گی۔

دوسری جانب امریکا کو جدید سیمی کنڈکٹرز اور اے آئی ٹیکنالوجی میں برتری حاصل ہے، تاہم تیزی سے بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب امریکی پاور گرڈ پر دباؤ ڈال رہی ہے، جس کے باعث بعض رپورٹس کے مطابق ڈیٹا سینٹر منصوبوں میں تاخیر اور محدودیت کے رجحانات سامنے آئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کے پاس اگرچہ جدید ترین ٹیکنالوجی موجود ہے، لیکن توانائی کی رسد ایک چیلنج بنتی جا رہی ہے، جبکہ چین کے پاس وافر بجلی کی دستیابی اسے اس دوڑ میں ایک مختلف قسم کی اسٹریٹجک برتری فراہم کر رہی ہے۔