گلوکار نے فیصل آباد(faisalabad) میں 1 کنال 9 مرلہ ڈبل اسٹوری مکان پر قبضے کی تصدیق کا دعوی 2019 میں سول کورٹ میں دائر کیا
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ مین وراثتی جائیداد تنازع کیس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے کورٹ فیس جمع نہ کرانے پر راحت فتح علی خان کی اپیل خارج کرنے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے راحت فتح علی خان کی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا جس میں عدالت نے راحت فتح علی خان کی اپیل بحال کرتے ہوئےایک لاکھ جرمانہ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔
عدالتی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ راحت فتح علی خان نے فیصل آباد میں 1 کنال 9 مرلہ ڈبل اسٹوری مکان پر قبضے کی تصدیق کا دعوی سول کورٹ میں دائر کیا، جس پر سول عدالت نے 14 مئی 2019 کو گلوکار کے خلاف ڈگری جاری کی تھی۔
عدالتی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ راحت فتح علی خان نے سول عدالت کے فیصلے کے خلاف ٹرائل کورٹ میں اپیل دائر کی، ٹرائل کورٹ نے 15 ہزار کورٹ فیس جمع نہ کرانے پر تکنیکی بنیادوں پر اپیل خارج کردی۔
فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ راحت فتح علی خان نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، محض کورٹ فیس جمع نہ کرانے پر اپیل خارج کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
عدالتی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ محض فیس کی عدم ادائیگی یا تکنیکی خامی پر اپیل خارج کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے، ٹرائل کورٹ نے کورٹ فیس کے لیے درخواست گزار کو صرف 4 دن کا وقت دیا جو کہ ناکافی تھا۔
لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ اپیل کا حق ایک قیمتی قانونی حق ہے، صرف تکنیکی خامی پر ختم نہیں کیا جا سکتا، اپیلوں پر فیصلے پر میرٹ ہونے چاہیے صرف تنکیکی خامیوں پر بنیادوں پر نہیں کیا جانا چاہیے۔
عدالت نے راحت فتح علی سمیت تمام فریقین کو 2 جون کو متعلقہ عدالت پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ٹرائل
مزید پڑھیں:ہانیہ عامر اور فلمساز ثمن کامران ’’ فوربز میگزین ‘‘ فہرست میں شامل
کورٹ کو بغیر کسی التواکے دو ماہ میں اپیل پر میرٹ پر فیصلہ کرے۔









