پاکستان کے فری لانسرز(Freelancers) نے مالی سال 2025-26 کے پہلے 10 ماہ کے دوران زرمبادلہ کی مد میں 95 کروڑ ڈالر سے زائد رقم ملک میں لانے کا نیا ریکارڈ قائم کردیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 49 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پی ایف اے) کے نومنتخب صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عمران بٹاڈا نے اس نمایاں کامیابی کو پاکستانی فری لانسرز کی محنت، مہارت اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی ساکھ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی فری لانسرز نے عالمی اور مقامی سطح پر درپیش متعدد چیلنجز کے باوجود شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور کئی شعبوں میں بھارت، چین، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے فری لانسرز سے بہتر نتائج حاصل کیے۔
ڈاکٹر عمران بٹاڈا کے مطابق فری لانسرز کی آمدنی میں نمایاں اضافے کی بنیادی وجہ مختلف عالمی پلیٹ فارمز پر پاکستانی نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی شرکت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپ ورک، فائور اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پاکستانی فری لانسرز کی موجودگی مسلسل مضبوط ہورہی ہے، جس کے باعث ملک میں زرمبادلہ کی آمد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں فری لانسنگ کے بارے میں آگاہی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس رجحان نے نوجوانوں، طلبہ اور پیشہ ور افراد کو نئی مہارتیں سیکھنے کی جانب راغب کیا ہے۔ لوگ آن لائن کورسز، نجی تربیتی اداروں، حکومتی پروگراموں اور مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے تربیتی منصوبوں کے ذریعے جدید ڈیجیٹل مہارتیں حاصل کر رہے ہیں۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے سربراہ نے کہا کہ اس وقت ملک میں فری لانسرز کی تعداد تقریباً 30 لاکھ کے قریب ہے اور یہ شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت، بینکنگ سیکٹر، تعلیمی ادارے اور دیگر متعلقہ فریقین مشترکہ حکمت عملی اپنائیں تو فری لانسنگ کی صنعت کو مزید منظم اور مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان نسل کو روایتی مہارتوں کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ڈیٹا اینالیٹکس، ویب ڈویلپمنٹ، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور کمیونیکیشن جیسی جدید صلاحیتوں پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ عالمی منڈی میں پاکستانی فری لانسرز مزید مؤثر انداز میں مقابلہ کرسکیں۔
ڈاکٹر عمران بٹاڈا نے بتایا کہ پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں فری لانسرز کی رہنمائی اور استعداد کار بڑھانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے۔ اس منصوبے کے تحت مختلف شہروں میں آن سائٹ اور آن لائن تربیتی سیشنز کا انعقاد کیا جائے گا، جن میں فری لانسنگ کے نئے رجحانات، کاروباری ترقی، بین الاقوامی کلائنٹس سے رابطے، ادائیگیوں کے نظام اور دیگر اہم موضوعات پر آگاہی فراہم کی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق فری لانسنگ پاکستان کے لیے زرمبادلہ کے حصول کا ایک اہم ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد گھر بیٹھے عالمی مارکیٹ میں خدمات فراہم کرکے نہ صرف اپنی آمدنی میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی مضبوط بنانے میں کردار ادا کر رہی ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انٹرنیٹ انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام اور تربیتی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے تو پاکستان آئندہ چند برسوں میں فری لانسنگ کے شعبے میں دنیا کے نمایاں ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔









