امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ(Scott Bessent) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف جاری معاشی مہم کے دوران تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو کرنسی اثاثے ضبط کر لیے ہیں۔
فاکس بزنس نیٹ ورک کے پروگرام ’کڈلو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی حکام نے ایرانی ڈیجیٹل والٹس اور اکاؤنٹس پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو ان کے بقول امریکا کی معاشی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں شروع ہونے والی ’آپریشن اکنامک فیوری‘ کے تحت ایران پر شدید مالی دباؤ ڈالا گیا ہے، جس سے اس کی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت مالی بحران کا سامنا کر رہا ہے، جہاں فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد کو تنخواہیں نہیں مل رہیں، جبکہ مہنگائی کی شرح بھی غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادی ایران کے مبینہ غیر قانونی مالی نیٹ ورکس، جائیدادوں اور بیرون ملک موجود اثاثوں کی نشاندہی اور ضبطی کے لیے مشترکہ اقدامات کر رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پیٹرول سستا، ڈیزل مہنگا: حکومت کا لیوی میں بڑا ردوبدل
انہوں نے کہا کہ ایران ماضی میں ماہانہ کروڑوں ڈالر ملک سے باہر منتقل کرتا رہا ہے، جسے روکنے کے لیے امریکی اقدامات جاری ہیں۔
وزیرِ خزانہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ پہلی بار جوہری معاملات پر بات چیت کی آمادگی سامنے آئی ہے، تاہم مذاکرات ابھی ابتدائی اور مشکل مرحلے میں ہیں۔
ان کے مطابق خطے میں کشیدگی، خلیجی ممالک پر حملوں اور علاقائی صورتحال نے ایران کے خلاف عالمی پالیسی کو مزید سخت کر دیا ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ نے آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر بھی بات کی اور کہا کہ واشنگٹن اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر خطے میں توانائی اور شپنگ راستوں کی حفاظت کو یقینی بنا رہا ہے۔
انہوں نے امریکی فوجی اہلکاروں کی کارکردگی کو بھی سراہا اور کہا کہ وہ خطے میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔









