امریکی خلائی ادارے ناسا(NASA) نے چاند پر مستقل انسانی آبادی قائم کرنے کے لیے ایک بڑے اور تاریخی منصوبے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت 2026ء کے اختتام تک چاند پر شہر کی تعمیر کا ابتدائی مرحلہ شروع کیے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ناسا کے سربراہ جیرڈ آئزک مین کے مطابق تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کے اس منصوبے کا پہلا مرحلہ 2029ء تک جاری رہے گا، جس دوران چاند پر نئی ٹیکنالوجی کی آزمائش، تحقیق اور بنیادی ڈھانچے کی تیاری پر کام کیا جائے گا۔
جیرڈ آئزک مین نے کہا کہ امریکا دوبارہ چاند پر جا رہا ہے اور اس بار مستقل قیام کے لیے جارہا ہے۔خلا میں فٹبال کا حیرت انگیز کرتب، ناسا خلا باز کی بائیسکل کک وائرل
ناسا کا منصوبہ ہے کہ 2032ء تک چاند پر ایک مستقل کالونی قائم کی جائے، جبکہ آئندہ 3 برسوں میں نجی شعبے کے تعاون سے مزید قمری مشنز بھیجے جائیں گے تاکہ موزوں لینڈنگ مقامات کی نشاندہی اور جدید ٹیکنالوجیز کی جانچ کی جا سکے۔
ناسا حکام کے مطابق چاند پر انسانی رہائش کے لیے ماحول انتہائی سخت اور چیلنجنگ ہے، تاہم مجوزہ قمری شہر جدید سائنسی سہولتوں سے آراستہ ہوگا۔
منصوبے کا آغاز رواں سال خزاں میں متوقع ہے، جب بلیو اوریجن اپنا بلیو مون مارک ون لینڈر اینڈورنس چاند کی جانب روانہ کرے گی۔
دوسری جانب حالیہ راکٹ حادثے کے بعد بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تکنیکی مسائل مستقبل کے قمری مشنز میں تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستان اور آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیمیں دوسرے ون ڈے کیلئے لاہور پہنچ گئیں
ناسا 2029ء تک چاند کی سطح پر بڑی تعداد میں خودکار روورز اور مون فال ہیلی کاپٹر ڈرونز بھی تعینات کرنا چاہتا ہے، جو پانی اور دیگر قدرتی وسائل کی مسلسل تلاش کریں گے اور مستقبل کی انسانی آبادکاری کے لیے اہم معلومات فراہم کریں گے۔









