وفاقی حکومت نے سول بیوروکریسی میں شفافیت، احتساب اور معلومات کے درست اندراج کو یقینی بنانے کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے سول سرونٹس کی غیر ملکی شہریت اور دہری شہریت سے متعلق نئے قواعد نافذ کر دیے ہیں۔
وزیراعظم Shehbaz Sharif کی منظوری کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ’’سول سرونٹس (ڈسکلوزر اینڈ ریگولیشن آف فارن نیشنلٹی) رولز 2026‘‘ کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نئے قواعد کا اطلاق تمام وفاقی سول سرونٹس پر ہوگا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی سرکاری افسر کی جانب سے غیر ملکی شہریت، دوہری شہریت یا دیگر متعلقہ معلومات کو چھپانا ’’مس کنڈکٹ‘‘ تصور کیا جائے گا، جس پر محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا سکے گی۔
قواعد کے تحت تمام سرکاری افسران اپنی، اپنے شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کی غیر ملکی شہریت، غیر ملکی پاسپورٹ، مستقل رہائش (پرمننٹ ریزیڈنسی)، امیگریشن اسٹیٹس اور دیگر غیر ملکی وابستگیوں سے متعلق مکمل معلومات فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایسے افسران جو کسی غیر ملکی ملک کی سفری دستاویزات رکھتے ہیں، وہ بھی ان قواعد کے دائرہ کار میں آئیں گے۔
مزیدپڑھیں:آئندہ مالی سال میں 20 لاکھ نئی ملازمتوں کا ہدف مقرر
حکومتی دستاویز کے مطابق غلط معلومات فراہم کرنا، حقائق کو پوشیدہ رکھنا یا دانستہ طور پر غیر ملکی وابستگیوں کا اعلان نہ کرنا سنگین خلاف ورزی شمار ہوگی۔ ایسے معاملات میں متعلقہ افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی کے علاوہ ملازمت سے برطرفی سمیت دیگر تادیبی اقدامات بھی کیے جا سکیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئے قواعد کا مقصد سول سروس میں شفافیت کو فروغ دینا، مفادات کے ممکنہ تصادم کو روکنا اور قومی اداروں پر عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے حکومت سول سرونٹس کے مالی، قانونی اور غیر ملکی تعلقات سے متعلق معلومات کو باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بنانا چاہتی ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں سرکاری ملازمین کے لیے شہریت اور غیر ملکی وابستگیوں سے متعلق معلومات کا اندراج ایک معمول کی انتظامی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی ان نئے قواعد سے سرکاری نظام میں جوابدہی اور نگرانی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔









