وفاقی پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کی سول سروس میں دلچسپی بدستور برقرار ہے اور سی ایس ایس اسکریننگ ٹیسٹ کے لیے امیدواروں کی رجسٹریشن گزشتہ پانچ برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
ایف پی ایس سی کی جانب سے جاری وضاحتی بیان کے مطابق سی ایس ایس اسکریننگ ٹیسٹ کے لیے مجموعی طور پر64 ہزار 81 امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نوجوان آج بھی سول سروس کو اپنے کیریئر کے لیے ایک پرکشش اور باوقار شعبہ سمجھتے ہیں۔
کمیشن نے بعض حالیہ رپورٹس میں پیش کیے گئے اس تاثر کو مسترد کیا کہ نوجوان سول سروس میں دلچسپی کھو رہے ہیں۔ ایف پی ایس سی کے مطابق یہ دعویٰ دستیاب اعداد و شمار سے مطابقت نہیں رکھتا اور حقائق کے برعکس ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سول سروس میں دلچسپی کا سب سے مستند اور قابل اعتماد پیمانہ **سی ایس ایس اسکریننگ ٹیسٹ کی رجسٹریشن ہے، کیونکہ ہر امیدوار کے لیے تحریری امتحان میں شرکت سے قبل اس مرحلے سے گزرنا لازمی ہوتا ہے۔
ایف پی ایس سی کے مطابق 2025 میں اسکریننگ ٹیسٹ کے لیے رجسٹریشن کی تعداد 2022 کے مقابلے میں تقریباً 3.8 فیصد زیادہ رہی، جو نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
کمیشن نے مزید نشاندہی کی کہ بعض رپورٹس میں اسکریننگ ٹیسٹ کے رجسٹریشن ڈیٹا کو نظر انداز کیا گیا، جبکہ اسپیشل سی ایس ایس 2023 کے نتائج اور اس کے اثرات کا بھی ذکر نہیں کیا گیا، جس سے مجموعی تصویر مکمل طور پر سامنے نہیں آ سکی۔
ایف پی ایس سی نے بتایا کہ خصوصی سی ایس ایس اقدام کے تحت اقلیتوں اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے 141 امیدواروں کو سول سروس میں تعینات کیا گیا، جس سے قومی اداروں میں نمائندگی اور شمولیت کو فروغ ملا ہے۔
کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے سول سروس آج بھی ایک پسندیدہ کیریئر اور روشن مستقبل کی علامت ہے۔ ایف پی ایس سی نے کہا کہ وہ مستقبل میں بھی درست اعداد و شمار پر مبنی معلومات اور رپورٹس کی فراہمی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔









