ایران نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے منجمد اثاثے(Frozen Assets) بحال کر کے ایران امریکا مذاکراتی ڈیڈلاک ختم کر سکتے ہیں۔
ایرانی رہبر معظم کے مشیر محسن رضائی نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ امریکا کے لیے 24 ارب ڈالرز، ایران سے سمجھوتے پر پہنچنے کےلیے بڑی رقم نہیں ہے۔ یہ ایران کا پیسہ ہے، امریکا کا نہیں۔
محسن رضائی نے امریکا پر سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے اور جنگ بندی معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا یا تو سخت جواب حاصل کرے گا یا پھر ایران کی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا۔
محسن رضائی نے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ سفارت کاری سے تین مرتبہ غداری کی، پہلی اور دوسری مرتبہ بالترتیب جون 2025 اور فروری میں ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کے دوران ایسا کیا گیا، جبکہ تیسری مرتبہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے ایک روز قبل بحری ناکہ بندی نافذ کرکے سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا گیا۔
مزید پڑھیں:اقتصادی رابطہ کمیٹی اجلاس، 31 ارب سے زائد کی گرانٹ منظور کرلی
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن دعویٰ کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے پر ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی، حالانکہ آبنائے ہرمز اس وقت بھی تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایسا ہے تو امریکا ابھی ناکہ بندی کیوں ختم نہیں کرتا۔









