وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ (Rana Sanaullah) نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ کی تیاری میں مالی وسائل کی دستیابی سب سے بڑا چیلنج ہے اور حکومت اس حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجٹ کے لیے ایک مخصوص مالی ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاہم جب تک اس ہدف کے مطابق وسائل کا بندوبست نہیں ہو جاتا، بجٹ کو حتمی شکل دینا مشکل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو امید ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ جاری مشاورت کسی مثبت نتیجے تک پہنچ جائے گی۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق بجٹ سے متعلق حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات آج کے بجائے کل ہونے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں؛30جون سے پہلے این ایف سی کا معاملہ حل ہوتا مشکل نظر آتا ہے: رانا ثناء اللہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کی مذاکراتی ٹیم کا ایک اہم اجلاس آج رات منعقد ہوگا، جس میں بجٹ سے متعلق حکمت عملی اور حکومتی تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ اس اندرونی مشاورت کے بعد حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ ملاقات کا وقت طے کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت صوبوں سے تقریباً 1700 ارب روپے کے فنڈز کی فراہمی کی خواہاں ہے۔ ان وسائل کی دستیابی کے بعد ہی آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دی جا سکے گی۔









