مانچسٹر (Manchester) میں سالانہ سوک سروس کی تقریب اس وقت ایک خاص روحانی اور سماجی رنگ اختیار کر گئی جب مانچسٹر کیتھیڈرل میں تلاوتِ قرآنِ مجید سے اس کا آغاز کیا گیا۔
تقریب میں لارڈ میئر مانچسٹر شوکت علی نے شرکت کی، جبکہ شہر بھر سے سیاسی، سماجی، مذہبی رہنما، کمیونٹی نمائندے اور بڑی تعداد میں شہری موجود تھے۔ تلاوتِ قرآن کے بعد شرکا کے اعزاز میں استقبالیہ بھی دیا گیا۔
تقریب کے اختتام پر مانچسٹر، اس کے شہریوں اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ سوک سروس کے موقع پر شہری ذمہ داری، باہمی احترام اور بین المذاہب ہم آہنگی کے پیغام کو نمایاں کیا گیا۔
اس موقع پر مختلف مذاہب کے نمائندوں نے بھی اظہارِ خیال کیا، جن میں ہندو، سکھ، یہودی، جین اور بدھ مت کمیونٹیز کے نمائندے شامل تھے۔ شرکا نے لارڈ میئر شوکت علی کو ان کے منصب پر مبارکباد پیش کی اور شہر کی ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں؛آسٹرین چانسلر کی دعوت پر وزیرِ اعظم 2روزہ دورے پر ویانا پہنچ گئے
رکنِ پارلیمنٹ افضل خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی نژاد کمیونٹی کے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ مانچسٹر کو ایک اور پاکستانی نژاد لارڈ میئر ملا ہے۔ ان کے مطابق یہ کامیابی لیبر پارٹی کی عوامی رابطہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور شوکت علی شہر کی خدمت میں اہم کردار ادا کریں گے۔
تقریب میں پاکستان کے قونصل جنرل امتیاز فیروز گوندل، ڈپٹی لارڈ میئر کونسلر جل، کونسلر احمد علی، کونسلر نعیم الحسن سمیت متعدد سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی۔
تقریب میں مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندوں اور پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد بھی موجود تھی، جس نے اسے ایک بین الثقافتی اور ہم آہنگی کا مظہر بنا دیا۔








