بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

6 سال میں گندم، چاول اور گوشت کا استعمال کم، سبزی گھی کی مانگ بڑھ گئی

پاکستان اکنامک سروے(Pakistan Economic Survey) 2025-26 میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران پاکستانی شہریوں کی خوراک میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں، جہاں گندم، چاول، دالیں، دودھ اور گوشت جیسی بنیادی غذاؤں کا استعمال کم ہوگیا ہے

، جبکہ نسبتاً سستی مگر کم غذائیت رکھنے والی گھی کے استعمال میں غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان بڑھتی ہوئی مہنگائی، خوراک کی بلند قیمتوں اور گھریلو آمدنی میں کمی کا واضح عکاس ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے طبقے پر پڑ رہا ہے۔

پاکستان اکنامک سروے کے مطابق 2018-19 سے 2024-25 کے درمیان فی کس ماہانہ گندم اور آٹے کا استعمال 7 کلوگرام سے کم ہو کر 6.59 کلوگرام رہ گیا۔ اسی عرصے میں چاول کا استعمال 1.06 کلوگرام سے گھٹ کر 0.86 کلوگرام، جبکہ دالوں کا استعمال 0.35 کلوگرام سے کم ہو کر 0.26 کلوگرام فی کس ماہانہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق تازہ دودھ کی کھپت بھی متاثر ہوئی ہے اور یہ 6.85 کلوگرام سے کم ہو کر 6.15 کلوگرام فی کس ماہانہ رہ گئی ہے۔ اسی طرح گوشت، جس میں گائے، بکرے اور مرغی کا گوشت شامل ہے، کا استعمال 0.61 کلوگرام سے کم ہو کر 0.50 کلوگرام فی کس ماہانہ ہوگیا۔

دوسری جانب سبزی گھی کے استعمال میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔ سروے کے مطابق فی کس ماہانہ گھی کا استعمال 0.69 کلوگرام سے بڑھ کر 1.25 کلوگرام تک پہنچ گیا، جو تقریباً 81 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

مزیدپڑھیں:ایچی سن کالج نے بھارتی پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ ہرچرن سنگھ برار کے نام کلاس روم وقف کر دیا

اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ مناسب اور غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی کا براہ راست تعلق اس کی استطاعت سے ہے۔ جب خوراک کی قیمتیں لوگوں کی قوت خرید سے بڑھ جاتی ہیں تو بالخصوص کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے متوازن غذا کا حصول مشکل ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں غذائی تنوع اور صحت دونوں متاثر ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مہنگائی اور محدود آمدنی کے باعث کم آمدنی والے خاندان زیادہ غذائیت رکھنے والی اشیاء کے بجائے سستی، زیادہ توانائی فراہم کرنے والی مگر کم غذائی اہمیت رکھنے والی اشیاء استعمال کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ اس رجحان سے ملک میں غذائی معیار اور عوامی صحت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اقتصادی سروے کے مطابق کم از کم غذائی ضروریات پوری کرنے والی خوراکی ٹوکری کی فی کس ماہانہ لاگت جولائی 2025 سے مارچ 2026 کے دوران 3.2 فیصد بڑھ گئی۔ اکتوبر 2025 میں یہ لاگت بڑھ کر 6 ہزار 417 روپے تک پہنچ گئی تھی، جس کے بعد اس میں معمولی کمی دیکھی گئی۔