بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایرانی ریال کی قدر میں بڑا اضافہ،کرنسی مارکیٹ میں ہلچل، 48 گھنٹے میں 60 ارب ریال کی فروخت

پاکستان کی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ایرانی کرنسی (Irani Rial)کی طلب ایک بار پھر تیزی سے بڑھ گئی ہے جس کے باعث اس کی قدر میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان مشرق وسطیٰ میں جنگ روکنے کے معاہدے اور عالمی تیل کی قیمتوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال میں کمی کے بعد ایرانی کرنسی میں نئی جان آ گئی ہے۔

اوپن مارکیٹ میں 10 ملین ایرانی ریال کی قیمت میں تقریباً 2 ہزار سے 3 ہزار روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی قیمت بڑھ کر 3 ہزار 500 روپے سے 4 ہزار 500 روپے کے درمیان پہنچ گئی ہے۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ECAP) کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران پاکستانی خریداروں نے مجموعی طور پر 60 ارب ایرانی ریال خریدے ہیں جن کی مالیت تقریباً 25 کروڑ روپے بنتی ہے۔

 ان کے مطابق تقریباً تین ماہ کے وقفے کے بعد ایرانی کرنسی کی طلب دوبارہ بڑھنا شروع ہوئی ہے اور زیادہ تر خریدار کم اور متوسط آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی مارکیٹ میں تیل مزید سستا ہوگیا

ملک بوستان نے بتایا کہ ڈھائی ماہ قبل امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایرانی کرنسی کی خریداری میں اچانک اضافہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 10 ملین ریال کی قیمت چند سو روپے سے بڑھ کر تقریباً 12 ہزار روپے تک پہنچ گئی تھی تاہم بعد ازاں ایران پر ہونے والے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے باعث کرنسی کی قدر میں تیزی سے کمی آئی اور یہ قیمت گر کر صرف 2 سے 3 ہزار روپے تک رہ گئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ دو دنوں میں دوبارہ طلب بڑھنے کے بعد ایرانی کرنسی کی قدر میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں کو ایرانی کرنسی میں سرمایہ کاری کرتے وقت احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ اس وقت صرف ایک ابتدائی معاہدہ طے پایا ہے جبکہ حتمی ڈیل ابھی باقی ہے۔