ایران کی مرکزی فوجی کمان خاتم الانبیاء بریگیڈ (Khatim ul anbia bergade) نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو تمام بحری آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ کے بعد طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔

ہفتے کے روز جاری ایک باضابطہ بیان میں خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے کہا کہ امریکا نے جنگ کے خاتمے کے لیے طے شدہ مفاہمتی معاہدے کی پہلی شق کی کھلی خلاف ورزی کی ہے، جبکہ اسرائیل جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ان اقدامات کے باعث آبنائے ہرمز کو جہازوں اور بحری تجارتی راستوں کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ایرانی فوجی کمان نے مزید کہا کہ یہ اقدام دشمن کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کے جواب میں پہلا قدم ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر مبینہ جارحیت اور معاہدوں کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ایران مزید اقدامات بھی کر سکتا ہے تاکہ مخالف فریقوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں:ن لیگی رکن اسمبلی، نوٹوں پر قائد اعظمؒ کیساتھ نوازشریف کی تصویر بھی لگانے کا مطالبہ
خیال رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیجی ممالک کی تیل و گیس برآمدات کا بڑا حصہ اسی گزرگاہ سے دنیا بھر تک پہنچتا ہے۔








